حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 162
شاہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره ”ایک دفعہ مجھے تین مہینے کی رخصت لے کر مع اہل واطفال قادیان میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ان دنوں میں ایسا اتفاق ہوا کہ والدہ ولی اللہ شاہ کے دانت میں سخت شدت کا درد ہو گیا۔جس سے ان کو نہ رات کو نیند آتی تھی اور نہ دن کو۔ڈاکٹری علاج بھی کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔حضرت خلیفہ اوّل ( اللہ ان سے راضی ہو ) نے بھی دوا کی۔مگر آرام نہ آیا۔حضرت (اماں جان ) ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی بیوی کے دانت میں سخت درد ہے اور آرام نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان کو یہاں بلائیں کہ وہ مجھے آکر بتائیں کہ انہیں کہاں تکلیف ہے۔چنانچہ انہوں نے حاضر ہو کر عرض کی۔کہ مجھے اس دانت میں سخت تکلیف ہے۔ڈاکٹری اور مولوی صاحب ( حضرت حکیم نورالدین بھیروی۔اللہ آپ سے راضی ہو ) کی بہت دوائیں استعمال کی ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا کہ آپ ذرا ٹھہریں چنانچہ حضور نے وضو کیا اور فرمانے لگے کہ میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں۔آپ کو اللہ تعالی آرام دے گا۔گھبرائیں نہیں۔حضور نے دو نفل پڑھے اور وہ خاموش بیٹھی رہیں اتنے میں انہیں محسوس ہوا کہ جس دانت میں درد ہے اس دانت کے نیچے سے ایک شعلہ قدرے دھوئیں والا دانت کی جڑھ سے نکل کر آسمان تک جا کر نظر سے غائب ہو گیا تو تھوڑی دیر بعد حضور نے سلام پھیرا۔اور وہ در دفور ارفع ہو گیا۔حضور نے فرمایا۔کیوں جی۔اب آپ کا کیا حال ہے انہوں نے عرض کی۔حضور کی دعا سے آرام ہو گیا ہے۔اور ان کو بڑی خوشی ہوئی کہ خدا نے ان کو اس عذاب سے بچالیا۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۸۸۴) حضرت اقدس علیہ السلام کی دعا سے شفایابی حضرت ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب اپنی دختر حضرت سیدہ زینب النساء کی ۱۶۴