حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 161
ناه صاح باب ششم۔۔۔۔ذکره آقا کی غلاموں سے شفقت و محبت کے نمونے حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب سیدنا حضرت اقدس کی اپنے ساتھ غیر معمولی شفقت و محبت کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں :- ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں ایک چار پائی پر تشریف رکھتے تھے۔اور دوسری دو چار پائیوں پر مفتی محمد صادق صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم ( اللہ ان سے راضی ہو ) وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔بوری نیچے پڑی ہوئی تھی۔اس پر میں دو چار آدمیوں سمیت بیٹھا ہوا تھا۔میرے پاس مولوی عبد الستار خان صاحب بزرگ (آف افغانستان۔اللہ ان سے راضی ہو ) بھی تھے۔حضرت صاحب۔۔۔۔تقریر فرمارہے تھے کہ اچانک حضور کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا۔کہ ڈاکٹر صاحب آپ میرے پاس چار پائی پر آکر بیٹھ جائیں۔مجھے شرم محسوس ہوئی کہ میں حضور کے ساتھ برابر ہو کر بیٹھوں۔حضور نے دوبارہ فرمایا کہ شاہ صاحب آپ میرے پاس چار پائی پر آجائیں۔میں نے عرض کی کہ حضور میں یہیں اچھا ہوں۔تیسری بار حضور نے خاص طور پر فرمایا کہ آپ میری چار پائی پر آکر بیٹھ جائیں۔کیونکہ آپ سید ہیں اور آپ کا احترام ہم کو منظور ہے۔حضور کے اس ارشاد سے مجھے بہت فرحت ہوئی۔اور میں اپنے سید ہونے کے متعلق حق الیقین تک پہنچنے کی جو آسمانی شہادت چاہتا تھا۔وہ مجھے مل گئی۔* (سيرة المهدی حصہ سوم روایت نمبر ۹۱۶) دعائیہ اعجاز حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں :- * خاکسار( حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے) عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو تو اپنے سید ہونے کا ثبوت ملنے پر فرحت ہوئی اور مجھے اس بات سے فرحت ہوئی کہ چودہ سوسال گذر جانے پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی اولا د کا کس قدر پاس تھا اور یہ پاس عام تو ہمانہ رنگ میں نہیں تھا بلکہ بصیرت اور محبت پر مبنی تھا۔۱۶۳