حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 150
مارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر بڑھے اور تجھے ایک پھول کی طرح اٹھا لیا۔سو جب تجھے ایسا سہارا مل گیا تو اب کس کا ڈر۔جا اور خوش خوش خدا کی ابدی جنت میں داخل ہو جا اور گلشن جنت کی خزاں سے نا آشنا بہ بہار فضاؤں کو اپنی خوشبوؤں سے معطر کر دے۔کتنے مبارک تھے تیرے آخری لمحات، میں بھی جب کہ تو اس فانی دنیا کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنے والی تھی۔تیرا محبوب خلیفہ اور پیارا خاوند تیرے سامنے تھا۔تیری نوجوان بیٹیاں اور تیری پیاری جمیل۔یہ سب جو کچھ دیر کے بعد تجھ سے اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے جدا ہونے والی تھی تیرے سامنے لائی جارہی تھی تا کہ تو ان کو اور وہ تجھ کو آخری نظر دیکھ لیں۔مگر افسوس کہ تیرا طاری اس وقت قریب نہ تھا۔اور آخر وقت میں تیری محبت بھری نظر کو دیکھنے سے محروم رہا۔مگر امی مجھے یقین ہے کہ میں تیری آخری وقت کی دعاؤں سے محروم نہیں رہا۔تیری محبت اور استقلال اور ارادے میں کوئی فرق نہ آیا۔تو جانتی تھی اور یقین رکھتی تھی کہ سب کچھ خدا کا ہے اور خدا کے لئے ہے۔اور اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔پس ایسے وقت میں اگر تجھے کسی کی یاد نے سہارا دیا تو وہ صرف خدا کی یاد تھی۔تیرے ناتواں ہونٹ کا نپتے رہے۔اور جب تک ان میں سکت رہی دعاؤں میں مصروف رہے۔یہاں تک کہ موت کی آخری غشی نے تجھ کو آلیا۔تیرے ہونٹوں کی خفیف حرکت ابدی سکوت میں تبدیل ہو گئی تیری روح جو دنیا میں اپنا وقت پورا کر چکی تھی۔فضا میں غائب ہوتے ہوئے پرندے کی طرح بے آواز اور آہستگی کے ساتھ تیرے جسم کو چھوڑ کر اپنے مولا سے جاملی۔ہاں اس وقت جب کہ فضا، قرآنی دعاؤں کی پیاری صدا سے گونج رہی تھی اور اس کی خوشبوؤں سے معطر ہورہی تھی۔تو ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئی مگر امی پھر بھی اس جدائی پر غم نہ کر کہ: گو جدائی ہے بہت لمبی کٹھن ہے منزل پر مرا آقا بلا لیگا مجھے بھی اے ماں دعا کا طالب خاکسار مرزا طاہر احمد الفضل قادیان ۱۴ را پریل ۱۹۴۴ ، صفحه ۳-۵) O ۱۵۲