حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 149 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 149

مارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔۔حضرت ام طاہر دعا مانگی تھی کے اے خدا مجھے ایک ایسا لڑکا دے جو نیک اور صالح ہو اور حافظ قرآن ہو۔میں نے کافی کوشش کی کہ کسی طرح تم قرآن شریف حفظ کرو۔مگر تم نے نہ کیا۔تم نمازوں میں بھی سستی دکھاتے ہو تم نے ابھی تک میری خواہش کو پورا نہ کیا۔امی میری پیاری امی! تو یہ الفاظ کہہ کر اب خدا کی محبت کی گود میں پہنچ چکی ہے مگر تیرے یہ لفظ مجھے تا زندگی تڑپاتے رہیں گے۔میں نے تیرا دل بہت دکھایا اور سخت گناہ کیا۔اے میری مہربان امی ! میں نادان تھا تو میری غلطی کو بھول جا۔اور مجھے معاف کر دے۔تا خدا بھی مجھے معاف کرے اور میرے دل کو تسکین حاصل ہو۔اے کاش میں اپنی ماں کی اس خواہش کو اب پورا کر سکوں۔میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔صبر کروپس میں صبر کرتا ہوں اور بے سود چیخ و پکار سے اپنے نفس کو روکے ہوئے ہوں۔مگر اس پر بھی ایک خیال ہے جو مجھے دیوانہ بنائے چلا جارہا ہے۔اور وہ خیال یہ ہے کہ اے میری امی عمر بھر تیری محبت میری خدمت گیر رہی لیکن جب میں تیری خدمت کے قابل ہوا تو تو چل بسی۔اُمّی تو نے دنیا کی کوئی خوشی نہ دیکھی۔اپنی دو جوان بچیوں اور ایک چھوٹی بچی کو خدا کے سپر دکر کے چل دی۔تیرے اکلوتے بیٹے نے تیری زندگی میں تجھ کوکوئی سکھ نہ پہنچایا۔خدا تعالیٰ سے دعا خدا مہربان خدا، اپنے بندوں کی سننے والا، اپنے گڑگڑاتے ہوئے بندوں کی آوازوں کو پورا کرنے والا خدا تجھے جنت الفردوس میں جگہ دے۔تجھے انگلی دنیا میں وہ خوشیاں دکھائے کہ جنت کی مخمور فضا ئیں بھی تجھ پر رشک کرنے لگیں۔امی جا اور اپنے پیارے خدا اور محبوب رسول اور عزیز از جان مسیح کی صحبت میں خوش رہ۔کہ شاید ہم تیرے دنیوی عزیز تیرے قابل نہیں۔پس اپنے ان ساتھیوں میں جا۔جو تیرا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں گے اور ہمیشہ تیری تسکین و رحمت کا باعث بنے رہیں گے۔تو باوجود اس کے کہ جسمانی مصائب کے متلاطم سمندر کی تڑپتی ہوئی موجوں میں گرفتار تھی جب کبھی بھی تو نے کوئی سہارا پایا۔ڈوبتے ہوؤں کو بچا کر پھر اسی متلاطم سمندر میں ہاتھ پاؤں مارنے لگی۔مگر خدا بہترین سہارا ہے۔بالآ خر اسی نے تجھے ساحل سے ٹکرا کے پاش پاش ہونے سے روکا اور چاد را نوارتانے ہوئے فرشتے خدائے عز وجل کی رحمت تلے تجھے لینے کے لئے آگے ۱۵۱