حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 148 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 148

مارشاہ صاحب کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر امی کے عادات و اخلاق کے متعلق میں کچھ نہیں لکھنا چاہتا۔ہر وہ شخص جو کبھی امی سے ملا ہے یا اسے امی سے واسطہ پڑا ہے۔وہ اپنے دل کو ٹولے اور خود اپنے جذبات کے ما تحت محسوس کر لے کہ لوگوں کے ساتھ امی کا سلوک کیسا تھا۔اولاد سے محبت اب میں امی کی اپنی اولاد سے محبت کو لیتا ہوں۔امی کو اپنی اولاد سے بھی بہت ہی محبت تھی۔اور امی کو اپنی اولاد کے نیک اور صالح ہونے کا اتنا خیال رہتا تھا کہ اکثر خدا کے حضور گڑ گڑا کر دعاؤں میں مصروف رہتیں۔اور اولاد کی نیکی اور تقوے اور طہارت کے لئے خصوصیت سے دعائیں کرتی تھیں۔ایک دفعہ میں نے امی کی ایک بہت پرانی کتاب دیکھی جو غالباً شادی کے کچھ عرصہ بعد کی تھی۔اور شاید میرے بڑے بھائی مرحوم طاہر کی بیماری کے ایام کی ہو۔اس کے شروع کے ایک صفحہ پر انٹی عبارت میں کچھ لکھا ہوا تھا۔میں نے بہت کوشش سے پڑھا تو مجھے مندرجہ ذیل عبارت نظر آئی۔بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ہوالناصر اب میرے مولا میں آپ سے نہایت ہی عاجزی سے دعا مانگتی ہوں کہ تو اپنے فضل و کرم کے ساتھ مجھ پر رحم فرما اور مجھے ہر ایک غم اور رنج سے نجات بخش۔میرے مولا میرے گناہ بخش کہ میں ہی گناہ گار ہوں۔اے میرے اللہ تو اپنے فضل سے میرے بچے کو کامل شفا بخش۔آمین ثم آمین اس عبارت سے بھی اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوسکتا ہے کہ امی اپنی اولاد کے لئے کس قدر عاجزی سے دعائیں کرتی تھیں۔یہ تو صحت کے لئے دعا تھی مگر امی اس کے علاوہ اپنی اولاد کے لئے ہر قسم کی دینی ترقیات کے لئے بھی بہت دعائیں کرتی تھیں۔اور خاص طور پر میرے لئے۔کیونکہ امی کے یہ الفاظ مجھے تازندگی نہ بھولیں گے اور وہ وقت بھی کبھی نہ بھولے گا کہ جب ایک دفعہ امی کی آنکھیں غم سے ڈبڈبائی ہوئی تھیں۔آنسو چھلکنے کو تیار تھے اور امی نے بھرائی آواز سے مجھے کہا کہ طاری میں نے خدا تعالیٰ سے