حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 133 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 133

بد عبد الستار شاہ صاحب باب چہارم حضرت ام طاہر غربت میں بھٹکنے والی روح کو اپنی جنت الفردوس میں مہمان کر کے لے جائے۔۔۔۔۔لجنہ کے کام کو غیر معمولی ترقی دی ان کا دل کام میں تھا۔کتاب میں نہیں۔جب سارہ بیگم فوت ہو گئیں۔تو مریم کے کام کی روح ابھری اور انہوں نے لجنہ کے کام کو خودسنبھالا۔جماعت کی مستورات اس امر کی گواہ ہیں کہ انہوں نے باوجود علم کی کمی کے اس کام کو کیسا سنبھالا۔انہوں نے لجنہ میں جان ڈال دی۔آج کی لجنہ وہ لجنہ نہیں جو امتہ ائی مرحومہ یا سارہ بیگم مرحومہ کے زمانہ کی تھی۔آج وہ ایک منظم جماعت ہے جس میں ترقی کرنے کی بے انتہاء قابلیت موجود ہے۔بیواؤں کی خبر گیری، یتامی کی پرسش ، کمزوروں کی پرسش ، جلسہ کا انتظام، باہر سے آنیوالی مستورات کی مہمان نوازی، غرض ہر بات میں انتظام کو آگے سے بہت ترقی دی۔اور جب یہ دیکھا جائے کہ اس انتظام کا اکثر حصہ گرم پانی سے بھری ہوئی ربڑ کی بوتلوں کے درمیان چار پائی پر لیٹے ہوئے کیا جاتا تھا۔تو احسان شناس کا دل اس کمزور ہستی کی محبت اور قدر سے بھر جاتا ہے۔اے میرے رب ! تو اس پر رحم کر اور مجھ پر بھی۔۱۹۴۲ء کی بیماری ۱۹۴۲ء میں میں سندھ میں تھا کہ وہ سخت بیمار ہوئیں اور دل کی حالت خراب ہو گئی۔مجھے تار گئی کہ دل کی حالت خراب ہے۔میں نے پوچھا کہ کیا میں آجاؤں تو جواب گیا کہ نہیں۔اب طبیعت سنبھل گئی ہے۔یہ دورہ مہینوں تک چلا۔۱۹۴۳ء میں ان کو دہلی لے گیا تا کہ ایک حکیم صاحب کا علاج کراؤں لیکن یہ علاج انہیں پسند نہیں آیا۔اس بیماری میں بھی جاتے آتے آپ ریل میں فرش پر لیٹیں اور میری دوسری بیویوں کے بچوں کوسیٹوں پرلٹوایا۔۔۔کچھ دنوں بعد مجھے پھر نقرس کا دورہ ہوا اور پھر وہاں جانا چھٹ گیا۔اس وقت ڈاکٹروں کی غلطی سے ایک ایسا ٹیکہ لگایا گیا۔جس کے خلاف مریم نے بہت شور کیا کہ یہ مجھے موافق نہیں ہوتا جو بڑے بڑے ڈاکٹروں کے نزدیک ان کے مخصوص حالات میں واقعی مضر تھا۔اس ٹیکہ کا یہ اثر ہوا کہ ان کا پیٹ یکدم اتنا پھولا کہ موٹے سے موٹے آدمی کا اتنا پیٹ نہیں ہوتا۔میں نے لاہور سے ایک اعلیٰ ڈاکٹر اور امرتسر سے ایک لیڈی ڈاکٹر کو ۱۳۵