حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 181 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 181

رشاہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکر ها ”غالباً ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے کہ طاعون پنجاب میں سخت زوروں پر تھی۔راولپنڈی کا ضلع خاص طور پر لقمہ اجل بنا ہوا تھا حضرت والد صاحب مرحوم نے حضور علیہ السلام سے اپنے وطن (سیہالہ ضلع راولپنڈی) جانے کی درخواست کی۔مگر حضور علیہ السلام نے اس بناء پر جانے سے روک دیا کہ حدیث میں منع ہے کہ کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں وبا پھیلی ہوئی ہے۔الفضل قادیان ۲۴ را پریل ۱۹۴۳ء صفحه ۳) ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء احباب پر کیا گذری حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:- ”لاہور میں جب حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا۔تو اس وقت میں بھی لاہور میں تھا۔اور گورنمنٹ کالج کی فرسٹ ائیر کلاس میں پڑھتا تھا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء اور منگل کا دن ہمیں کبھی نہیں بھول سکتا۔۲۵ مئی کی شام کو سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے احمد یہ بلڈنگ میں خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے سامنے کھڑا تھا۔میرے ساتھ میاں احمد شریف صاحب ریٹائر ڈائی۔اے سی کے علاوہ اور بھی کئی دوست کھڑے تھے کہ اتنے میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام فٹن میں بیٹھے ہوئے آئے تھے۔جب حضور کی لکھی خواجہ صاحب کے مکان کے سامنے کھڑی ہوئی۔تو اس وقت حضور کی زیارت کرنے والے لوگوں کا ایک انبوہ تھا جس میں غیر احمدی بھی بکثرت تھے۔حضور فٹن سے اتر کر مکان پر جانے کے لئے سیڑھی پر چڑھے (ایک چھوٹی سی چوبی سیڑھی کمرے میں جانے کے لئے رکھی ہوئی تھی )۔تو اس موقعہ پر کسی شخص نے گالی دی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ کر ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ادھر ادھر کی باتیں ہونے کے بعد غالباً میاں محمد شریف صاحب نے تجویز کی کہ کل صبح دریائے راوی پر چلیں جب جانے کے متعلق فیصلہ ہو گیا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا کید فرمایا۔کہ کل صبح ہوسٹل میں تیار رہنا۔ہم اسی طرف سے ۱۸۳