حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 163 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 163

رشاہ صاحب شفایابی کا غیر معمولی واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ :- باب ششم۔۔۔۔۔ذکره ” میری لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ کہ ایک دفعہ جب حضور علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے۔تو میں رعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا۔میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہ کر سکتی تھی۔مگر میرا دل چاہتا تھا کہ میری بیماری سے کسی طرح حضور کو علیم ہو جائے تا کہ میرے لئے حضور دعا کریں۔میں حضور کی خدمت کر رہی تھی کہ حضور نے اپنے انکشاف اور صفائی قلب سے خود معلوم کر کے فرمایا زینب تم کو مراق کی بیماری ہے ہم دعا کریں گے تم کچھ ورزش کیا کرو۔اور پیدل چلا کرو۔مگر میں ایک قدم بھی پیدل نہ چل سکتی تھی۔اگر دو چار قدم چلتی بھی تو دوره مراق و خفقان بہت تیز ہو جاتا تھا۔میں نے اپنے مکان پر جانے کے لئے جو حضور کے مکان سے قریباً ایک میل دور تھا۔ٹانگے کی تلاش کی۔مگر نہ ملا۔اس لئے مجبورا مجھ کو پیدل جانا پڑا۔مجھ کو یہ پیدل چلنا سخت مصیبت اور ہلاکت معلوم ہوتی تھی۔مگر خدا کی قدرت جوں جوں میں پیدل چلتی رہی۔آرام معلوم ہوتا تھا۔حتی کہ دوسرے روز میں پیدل حضور کی زیارت کو آئی تو دورہ مراق جاتا رہا۔اور بالکل آرام آ گیا۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت ۹۱۷) اور مردہ زندہ ہو گیا حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب اپنی اہلیہ محترمہ حضرت سیدہ سعیدۃ النساء صاحبہ کی غیر معمولی شفایابی، بیعت اور حضرت اقدس کی دعاؤں کے اعجازات کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:۔” جب میں نے حضرت صاحب کی بیعت کی تو ولی اللہ شاہ کی والدہ کو خیال رہتا تھا کہ سابقہ مرشد کی ناراضگی اچھی نہیں۔ان کو بھی کسی قدر خوش کرنا چاہیئے تا کہ بددعا نہ کریں۔ان کو ہم لوگ پیشوا کہا کرتے تھے۔ولی اللہ شاہ کی والدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اچھا جانتی تھی اور آپ کی نسبت حسن ظن تھا۔صرف لوگوں کی طعن تشنیع اور پیشوا