حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 120
رشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔۔حضرت ام طاہر مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو فوراً حضرت اماں جان اللہ آپ سے راضی ہو) سے فرمایا کہ مرغیاں گنوا کر ان بچوں کو قیمت دے دی جائے۔اور مرغیاں ذبح کر کے کھائی جائیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبارک احمد بہت پیارا تھا۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے معالج حضرت شاہ صاحب ۱۹۰۷ ء میں وہ بیمار ہو گیا۔اور اس کو شدید قسم کا ٹائیفائڈ کا حملہ ہوا۔اس وقت دو ڈاکٹر قادیان میں موجود تھے۔ایک ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین مرحوم و من و مغفور تھے۔ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ ہمیں باہر نوکری کرنے کی بجائے قادیان میں رہ کر خدمت کرنی چاہیے۔اور اس رنگ میں شائد وہ پہلے احمدی تھے جو ملازمت چھوڑ کر یہاں آگئے تھے۔ایک تو وہ تھے اور دوسرے حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب تھے جور خصت پر یہاں آئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اوّل (اللہ آپ سے راضی ہو ) بھی ان کے ساتھ مل کر مبارک احمد مرحوم کا علاج کیا کرتے تھے اس کی بیماری کے ایام میں کسی شخص نے خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد کی شادی ہورہی ہے۔اور معبرین نے لکھا ہے کہ اگر شادی غیر معلوم عورت سے ہو تو اس کی تعبیر موت ہوتی ہے مگر بعض معبرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسے خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ یہ تعبیر مل جاتی ہے۔پس جب خواب دیکھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا یہ خواب سنایا تو آپ نے فرمایا کہ معبرین نے لکھا ہے کہ اس کی تعبیر موت ہے۔مگر اسے ظاہری رنگ میں پورا کر دینے کی صورت میں بعض دفعہ یہ تعبیر مل جاتی ہے۔اس لئے آؤ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔گویا وہ بچہ جسے شادی بیاہ کا کچھ بھی علم نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی شادی کا فکر ہوا۔جس وقت حضور علیہ السلام یہ باتیں کر رہے تھے۔تو اتفاقاً ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے گھر سے (یعنی آپ کی اہلیہ حضرت سیدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ ) جو یہاں بطور مہمان آئے ۱۲۲