دوزخ سے جنت تک — Page 6
دوزخ سے جنت تک ) 6 تھا کہ میں نے اپنے محسن کی اتنی سی بات بھی نہیں ہے۔مانی لیکن ساتھ ہی ساتھ بشارت صالح کی بات جہاز کی پرواز کا وقت ہو چکا تھا۔ہمارے نام بھی مجھے کھٹک رہی تھی۔بہر حال امیگریشن سے پکارے جارہے KLM کلیئر ہونے کے بعد ہم سب اندر انتظار گاہ پہنچ تھے کہ ہم جہاز گئے جہاں سے اب اور کوئی چیکنگ نہیں ہوئی تھی میں داخل ہوں بس جہاز میں ہی سوار ہونا تھا۔دنوں انتظار گاہ لیکن ہمارے دو ساتھی ابھی تک تلاشی کے مرحلے میں ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد بھی موجود تھی۔سے گزر رہے تھے۔کافی تشویشناک انتظار کے ہمارے ایجنٹ نے جاتے ہی نماز شروع کر دی بعد میرے وہ دوست بھی اور انکی بزرگ والدہ لیکن نماز کے دوران اُسکی ایک آنکھ برابر باہر صاحبہ بھی پریشان حال ہمارے پاس پہنچ گئیں اُس طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے ہمارے اور ہم سب بھاگ دوڑ کے جہاز میں سوار ہوئے گروپ کے ابھی دو مسافر اند رنہیں آئے اور تھوڑی ہی دیر میں سیرین ایر لائن کا طیارہ فضا تھے۔پھر جلدی جلدی اُسنے نماز ختم کر کے جالی ء میں بلند ہو چکا تھا۔سبحان اللہ ہم فرینکفرٹ اور سے بنی ہوئی دیوار میں سے جھانک کے ہمبرگ کے خوبصورت شہروں میں جلوہ افروز امیگریشن کے اُس حصے کی طرف دیکھنا شروع دیا ہونے کے لئے لئے روانہ ہو چکے تھے۔جہاز جہاں ہمارے ایک دوست اور اُسکی والدہ کی بلند ہوتے ہی ایجنٹ صاحب نے اُس بزرگ تفصیلی تلاشی لی جارہی تھی۔ہمارے ایجنٹ کا خاتون کے پرس سے اپنی کالی ڈائری واپس لی رنگ متغیر اور اسکی تسبیح کے دانے تیزی سے گھومنا اور میری طرف فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے شروع ہو گئے۔وجہ پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ ہوئے کہا اتنی سی بات تھی۔جہاز سے اپنے وطن کالی ڈائری اُس بزرگ خاتون کے بیگ میں عزیز کا منظر بہت خوبصورت تھا۔ہمیں اوپر سے