دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 36 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 36

) 36 ہیں۔ہال کو باہر سے بند کر دیا گیا تھا اور اب ہم دو اور ایک کمرے میں کوئی چالیس لوگ تھے اس دوست ایک تاریک ہال میں گٹر کی تلاش میں لئے اس یخ بستہ سردی سے پالا نہیں پڑا تھا۔تھے ساتھ ساتھ ہم ہنس بھی رہے تھے اور میں یہاں ہم عام گراؤنڈ فلور پر تھے اور سردی کے نصیر کو چھیڑ رہا تھا کہ اور جاؤ جرمنی۔ایک دو بار ہم جھونکے ہمیں منجمد کر رہے تھے۔دن بھر تبارک پھسلے اور سر سے پیر تک پانی میں شرابور اور کالے ہمارے ساتھ عدالت میں رہا اور ہمیں تسلیاں دیتا ہو گئے۔کوئی ایک گھنٹے کے بعد آخر کار ہم وہ رہا۔چھ بج گئے۔عدالت کی لائٹیں آف ہونا بلاک گٹر کھولنے میں کامیاب ہو گئے اور اتنے شروع ہو گئیں۔تبارک کہیں رفو چکر ہو گیا۔پولیس خوش ہوئے گویا ہم نے مریخ پر راکٹ اُتار لیا والے آئے ہمیں کہا کل عدالت میں حاضری ہے۔نصیر صاحب بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ہوگی۔کل تک یہیں کہیں لاک اپ میں رہنا میرے علاوہ کوئی یہ گڑ نہیں کھول سکتا تھا۔ہوگا۔وہاں سے ہمیں نکال کے اُس سے بھی بہر حال گھر کھولنے کے بعد بال کے صفائی کرتے زیادہ ٹھنڈے سلاخوں والے کمرے میں بند رہے پھر دروازہ اندر سے پیٹتے رہے کہ بھائی کر دیا گیا۔اس بڑے سے ہال کمرے کے ایک ہمیں باہر نکالو۔آخر انہوں نے ہمیں باہر نکالا طرف دیوار تھی اور باقی تین اطراف میں سلاخیں نہانے کو جگہ دی۔پھر وہ دن بھی آگیا جب ہمیں تھیں۔جوں جوں شام بڑھتی گئی سردی کی شدت اس عمارت سے نکال کے فوجی ٹرک میں ڈالا گیا میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔سردی سے زیادہ اور عدالت لے جایا گیا۔اس سارا دن ہماری ہمیں بھوک ستا رہی تھی۔ہمارے ساتھ کوئی پیشی کی باری ہی نہیں آئی۔بھوک سے سب کا پندرہ میں شامی ملزمان بھی بند تھے۔اُنکے عزیز بہت برا حال تھا۔پھر لاک اپ میں سردی بہت جاتے جاتے انہیں کوئی روٹی وغیرہ دے گئے زیادہ تھی۔اس سے پہلے ہم تہہ خانے میں تھے تھے۔ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔سوصبر کر کے