دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 29 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 29

) 29 ایک دفعہ ہم سوئے ہوئے تھے کہ ہمارے اوپر ہو گیا۔ہم سب یہ دیکھ رہے تھے ہم انٹونی کو بچانا پانی گرنا شروع ہو گیا۔اُٹھ کے دیکھا تو ہمارے چاہتے تھے لیکن سب سر جھکائے خاموش بیٹھے چھوٹے سے کمرے کے بیچوں بیچ انٹونی کھڑے تھے۔اس طرح کے تکلیف دہ واقعات ہوتے ہو کے پیشاب کر رہا تھا اور ایسے گھوم کے کر رہا تھا رہتے تھے لیکن ایک دن حد ہوگئی۔ایک فوجی کہ سب کو سیراب کر رہا تھا۔عربی قیدی اُسے اندر آیا اور آتے ہی انٹونی کے پیٹ میں ٹھوکر مارنے کو لپکے لیکن ہم نے اُسے اُن سے بچا یا خود ماری۔دروازہ کھلا رہ گیا تھا۔انٹونی نے باہر نکلنے کو اور انٹونی کو صاف کیا۔اُسے بٹھا کے جو میسر تھا کی کوشش کی جس پر فوجی نے ہنستے ہوئے انٹونی کھانا کھلایا پانی پلایا اور اُسے یقین دلایا کہ کوئی کے منہ پہ ایک اور زور دار ٹھوکر رسید کی۔انٹونی اُسے نہیں مارے گا پھر وہ ہمارے درمیان تسلی نجانے کتنے سالوں سے یہ سب کچھ سہتا آرہا تھا سے سو گیا اور ساری رات اُسنے کسی کو تنگ نہیں کیا اُس دن اُس کا میٹر گھوم گیا۔اُسنے اُچھل کے۔شامی سپاہی جب بھی ہمارے کمرے میں آتے ایک ایسی فلائنگ لک اُس فوجی کے سینے پر ماری انٹونی کو ہنستے ہنستے دو تین ٹھڈے ضرور مارتے کہ وہ دھرا ہو گیا اور پھر دونوں گتھم گھتا ہو گئے۔بڑی مشکل سے دونوں کو الگ کیا اور وہ شامی فوجی گالیاں نکالتا ہوا باہر نکل گیا۔ہم سب انٹونی کے لئے پریشان ہو رہے تھے۔زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ باہر فوجی بوٹوں کی دھڑ دھڑ کی آواز سنائی دی۔اب کی بار وہ پانچ چھ فوجی تھے انٹونی تھے۔بلکہ ایک دن تو ایک فوجی نے اُسے منہ پر کو اُٹھا کے سامنے والے بال کمرے میں لے ٹھڈے مارے جس سے اُس کا منہ لہولہان گئے جہاں تشدد کیا جاتا تھا۔ہمارے کمرے سے