دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 21 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 21

) 21 سالم مرغ روسٹ جسے ہم چرغہ بھی کہتے ہیں بہت کوشش کر رہے تھے لیکن میں نے انہیں روکا کہ عام اور سستا ہے اس لئے بہت کھایا جاتا ہے۔سراسر قصور ہمارا ہے۔ہمارے گروپ کے نو افراد بہر حال یہ عربی دیوار کی طرف منہ کر کے تیزی میں سے چار بہت سخت جان تھے۔صالح تیزی سے دونوں ہاتھوں میں چرغہ دبوچ کے بشارت، جمشید، نصیر تینوں بڑے طاقتور اور کھانے لگا۔بھوک کے مارے میری حالت غیر پھر تیلے تھے۔ہمارے گروپ میں ہی فیصل ہو رہی تھی میں نے اُسے کہا حبیبی حبیبی انا غریبی۔آباد کا ایک نوجوان تو دو افراد پر اکیلا بھاری تھا۔مجھے بھی تھوڑا سا دے دو۔اُسے سختی سے میرے ذات کا بٹ تھا لیکن صحت میں بٹ برادری کا ہاتھ پہ ہاتھ مار کے مجھے پرے کیا۔میں غمزدہ ہو سردار تھا۔میں باقی دوستوں کی نسبت سب سے کے خاموش بیٹھ گیا۔دوسری طرف ہمارا ساتھی کمزور تھا۔ہمارا ایک ساتھی اختر ایک لمبا تڑنگا اور اشرف کا کا بیٹھا ہوا تھا۔شاید وہ مجھ سے بھی کڑیل نوجوان تھا جو دل کا نرم تھا لیکن اُسکے قد و زیادہ بھوکا تھا اور اُسنے میرا حشر دیکھ لیا تھا اُسنے قامت کی وجہ سے قیدی اُس سے دبک کے تاڑ کے ایک ہی جھپٹا ایسا مارا کہ اُسکے ہاتھوں سے رہتے تھے۔اشرف کا کا، ہلکے جسم کا تھا۔پورا چرغہ اچک لیا۔کا کے کی اس نازیبا حرکت پر کھانے پہ لڑائی پر ایک بات یاد آئی جو لکھنا ہم سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ہم سب نے اپنا نہیں چاہتا لیکن پتہ نہیں کیوں لکھ رہا ہوں اور اپنا حصہ کا کے سے لیا۔وہ عربی بھاری وجود کا اور بڑے بوجھل دل کے ساتھ لکھ رہاہوں۔ایک دن ظالم آدمی تھا وہ کا کے پر گھونسے برساتا رہا لیکن ایک اور نو جوان کو اس کال کوٹھری میں دھکیلا گیا۔کا کے نے ختم کر کے چھوڑا۔کاکے کی جان اس سے میں نے پوچھا کہ تم کس جرم میں آئے ہو چھڑانے میں ہم نے بھر پور مدد کی۔میرے تو اُس نے بتایا کہ یہاں شام میں ہر نو جوان کے گروپ کے لوگ اُس عربی پر حملہ آور ہونے کی لئے فوج میں دو سالوں کے لئے جبری بھرتی کا۔