دوزخ سے جنت تک — Page 2
دوزخ سے جنت تک ) 2 آخر کار وہ دن بھی آن ہی پہنچا تھا جب ہم خاطر پاکستان میں گھبرائے ہوئے نو جوانوں کوفی دوستوں کا گروپ کراچی ایئر پورٹ کے سبیل اللہ جرمنی بھجواتے ہیں اور یہ بالکل الگ Mernational Jinnah بات ہے کہ اپنا معاوضہ ایڈوانس لیتے ہیں۔لاہور کے علاقے سمن آباد میں رہتے ہوئے بھائی لوہاری کی بے ہنگم ٹریفک میں موٹر بائیک پر گھومتے ہوئے یکدم فرینکفرٹ جرمنی جانے کا ٹرمینل کی طرف بڑھ رہا تھا آج ہم ملک شام کو خواب بہت اچھا لگا جہاں کے بارہ میں یار لوگوں پرواز کرنے والے تھے۔ہمارے آگے آگے نے بتایا تھا کہ وہاں کے لوگ جانوروں تک سے ہمارے گروپ لیڈر ہمارے ٹریول ایجنٹ اتنا پیار کرتے ہیں کہ انسانوں کو بھی جانوروں صاحب تھے جو کہ شکل وصورت سے انتہائی جیسے حقوق حاصل ہیں میرا مطلب ہے کہ مومن اور کوئی پہنچے ہوئے عالم دین لگتے تھے۔انسانوں سے تو پیار کرتے ہی ہیں جانوروں کے نورانی چہرہ ،سفید بے داغ شلوار میض ، لمبی سفید بھی اپنے حقوق ہیں۔میرے ایک بہت ہی داڑھی ہاتھ میں تسبیح ، ماتھے پر سجدوں کے گہرے پیارے دوست جو چند ماہ قبل ہی جرمنی پہنچے تھے نشان ایک عجیب روحانی سا نظارہ پیش کر رہے وہاں سے فون کر کے جرمنی کی اتنی تعریفیں کرتے تھے۔اُن کی صورت دیکھ کے لوگ مرعوب تھے کہ سننے والے کا ہو کے انہیں حاجی صاحب کہہ رہے تھے۔کچھ دل چاہتا تھا کہ اُڑ۔عرصہ قبل میرے ایک دوست نے اُن کا غائبانہ کے وہاں پہنچ تعارف کروایا تھا یہ کہہ کر کہ یہ صاحب انتہائی جائے۔سڑکیں ہیں نیک دل اور متقی ہیں اور محض انسانی ہمدردی کی گویا شیشے کی بنی ہوئی ہیں۔قصاب ایسے