دوزخ سے جنت تک — Page 9
) ہیں۔لبنان کی اپنی گورنمنٹ ہے لیکن فیصلے شہر غربت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے لوگ بھی۔عالیشان دمشق میں ہی ہوتے ہیں۔بہر حال ہمیں سیاسی کاریں بھی تھیں اور افلاس کے مارے ہوئے پس منظر یا پیش منظر سے کوئی غرض نہیں تھی۔زنگ آلود سائیکل بھی۔ہمیں کچھ بھی اجنبی نہ لگا۔ہماری بس ائر پورٹ سے کوئی ایک گھنٹے کے ہاں ایک بات اجنبی لگی۔بازار میں ہر دوسرے بعد ایک درمیانے قسم کے ہوٹل پہنچ گئی۔بلکہ بڑا موڑ پر کوئی شامی روٹیاں زمین پر رکھے ہوئے ہی سادہ اور سستا قسم کا ہوٹل تھا۔فرشی بستر تھے فروخت کر رہا تھا۔دمشق کے اس مرکزی حصے میں اور ایک کمرے میں سات آٹھ افراد کے زمین پر سڑکوں پر گلی کے ہر نکڑ پر نو جوان شراب کی ولائتی سونے کا انتظام تھا۔سفر کے تھکے ہارے ہم جہاں بوتلیں فٹ پاتھوں پر جگہ ملی سو گئے۔اگلے دو روز ہمیں دمشق کی سیر رکھے فروخت کرتے کرنی تھی اور جلیل القدر شخصیات کے مقابر اور نظر آتے تھے اور یہ زیارتیں دیکھنی تھیں سو علی اصبح شام کے گلی کوچے جائز تھا۔اندرون دیکھنے کے لئے ہم ہوٹل سے باہر آگئے۔دمشق لاہور کی طرح پرانی میں پھرتے ہوئے ہمیں تین چیزیں بڑی وافر نظر گلیاں بھی تھیں اور آئیں۔مسجدیں، ہر عمارت ہر دفتر ہر دکان پر بڑی بڑی دمکتی ہوئی شاہراہیں بھی تھیں دمشق کے حافظ الاسد کی تصویر اور ہر دوسرے موڑ پر بازار بہت پر رونق اور آباد تھے۔بڑی دکانوں کا بندوقیں تا نہیں ہوئے فوجی اور آرمی کے ٹرک۔تو علم نہیں لیکن چھوٹی چھوٹی مارکیٹوں میں خوب حیرت کی بات یہ تھی کہ کلاشنکوفیں تھامے ہوئے بھاؤ تاؤ ہوتا تھا اور اپنے دیس کے پٹھان یاد فوجیوں کے درمیان زندگی رواں دواں تھی۔آتے تھے جو ٹیپ ریکارڈر دس ہزار کا کہہ کے دمشق میں بڑے بڑے عالیشان گھر بھی تھے اور بعد میں پانچ سو کا بھی دے دیتے تھے۔شہر