دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 8 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 8

) 8۔ابتداء میں ساری دنیا ایک ہی ملک تھی۔پھر قبضہ کیا اور آج کی بات یہ ہے کہ سن 1970 لالچ اور تعصب کی تلوار سے زمین ٹکڑوں میں بہتی سے یہاں کے موجودہ ہاتھ پارٹی کے سر براہ اور چلی گئی۔پھر وہ وقت بھی تھا کہ شام اردن فلسطین مطلق العنان بادشاہ حافظ الاسد نے اقتدار اور اسرائیل ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے۔پھر سنبھالا ہوا ہے۔1982 میں جب اسرائیل نے کوئی نا معلوم ہوس ملک کے اور بھی ٹکڑے کرتی ایک مرتبہ پھر ظلم اور نا انصافی کرتے ہوئے لبنان گئی۔آجکل ملک شام، عراق ترکی لبنان پر حملہ کر کے لبنان کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا تو اسرائیل اور اردن کے درمیان بسا ہوا ایک ملک جہاں لبنان میں حزب اللہ گروپ نے اسرائیلی تسلط کے خلاف مسلح جد جہد کا آغاز کیا وہیں شامی ہے۔مورخین کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوجیوں نے لبنان میں داخل ہو کے اسرائیل کی سے کوئی پانچ سو سال قبل پرشین جنگجوؤں نے فوج کو باہر نکالنے کی کوشش شروع کر دی لیکن یہاں قبضہ جمایا ہوا تھا۔پھر اسکے کوئی دو سو سال ساتھ ہی ساتھ خود بھی لبنان پر قابض ہو گئے۔آج سن 1988 میں جب ہم شام میں داخل بعد میسی ڈونیا کے یونانی ہیرو اور جنگجو بادشاہ سکندر اعظم ہوئے ہیں تو لبنان نے اس سرزمین کو فتح کیا اور پر شام کا ہی تسلط الله پھر اگر نئے دور کی بات کی ہے اور اسرائیل جائے تو سن 634 میں خالد اور لبنان کی بن ولید نے اس خطہ زمین کو زیرنگیں کیا اور اس پہ سرحدوں پر گوریلا جنگ جاری ہے۔اسرائیلی حکمرانی کی۔پھر سن 1400 کے اوائل میں تیمور فوجی ظلم و بربریت کی مثالیں قائم کر رہے ہیں اور بادشاہ نے تقریباً آدھے شہر کو قتل کر کے یہاں لبنان کی خوبصورت سر زمین پر گولہ باری کر رہے