دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 7 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 7

) 7 اپنا ملک دیکھتے ہوئے اس پر ترس بھی آیا کہ ہم جتنا انسانی خون اس زمین نے پیا ہے شائد ہی جیسا خوبصورت شخص نکل جانے کے بعد اس ملک کوئی اور ملک اس کی برابری کر سکے۔کے پاس فخر کرنے کے لئے رہ ہی کیا جائے گا بات ہورہی تھی ایئر پورٹ سے دمشق شہر جانے لیکن ہماری بھی مجبوری تھی۔کی۔ایئر پورٹ سے دمشق شہر غالباً کوئی دس بارہ شائد نماز فجر کا وقت ہوگا جب ہم دمشق کے ائر میل دور ہوگا۔میں بس کے شیشوں سے باہر پورٹ سے باہر آئے۔شہر دمشق کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا کوئی PakWhorl۔۔cxm دیکھتے ہوئے چشم تصور سے صدیوں پہلے کے وہ مناظر دیکھ رہا تھا جب یہاں سے زندگی کا آغاز ہوا۔مجھے یاد آرہا تھا کہ جاپانی ماہرین آثار قدیمہ نے لکھا ہے دمشق میں آٹھ لاکھ سال بھی معمولی تجربہ نہ تھا۔میں تاریخ کا کوئی ہونہار انسان رہا کرتے تھے۔ہمارے آباء و اجداد۔طالبعلم تو نہیں لیکن قدیم تہذیب و تمدن کو دیکھنا یہی وہ خطہ زمین تھا جہاں حضرت آدم علیہ السلام ہمیشہ سے میرا شوق رہا ہے اور آج میں اُس سر اور حضرت حوا علیہ السلام رہا کرتے تھے۔یہیں زمین پر قدم رکھ چکا تھا جو نبیوں کی زمین تھی۔جو پہ قابیل نے کاشتکاری کا آغاز کیا تھا اور ہابیل تمام ماہرین آثار قدیمہ کے متفقہ فیصلوں کے نے بکریاں چرانے کا کام۔یہیں پر دنیا کا پہلا قتل مطابق دنیا کا قدیم ترین آباد ملک تھا۔یہ ملک ہوا جب حضرت آدم علیہ السلام کے بڑے بیٹے بہت سی تہذیبوں اور ثقافتوں کا مرکز رہا ہے اور قابیل (CAIN) نے اپنے ہی چھوٹے انسانی تاریخ اور ہنگاموں کا ایک خزانہ یہاں بھائی ہابیل (ABEL) کو قتل کیا تھا اور شائد مدفون ہے۔یہاں صحرا بھی ہیں پہاڑ بھی ہیں اسی کی بناء پر اسے دمشق یعنی دسم شق کہا گیا۔وہ وادیاں بھی ہیں دریا بھی ہیں اور مرغزار بھی ہیں۔خون کچھ ایسا ہوا کہ اسکا انتقام ابھی تک جاری ہے