دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 48 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 48

) 48 میں اُنکی باتیں سن کر خوفزدہ بھی تھا اور حیران بھی پیشیاں ہوئیں۔ہر پیشی کے بعد ہمیں کسی الگ تھا کہ اسلامی ممالک مثلاً عراق شام مصر اردن عمارت میں ٹہرایا جاتا اور ہم یہ دیکھ کے حیران رہ لیبیا وغیرہ میں ایسے حالات کیوں ہیں کہ گئے کہ شہر دمشق کے عین بیچوں بیچ ہر سرکاری بادشاہوں کو اپنی بادشاہت برقرار رکھنے کے لئے عمارت کے نیچے نجی عقوبت خانے تھے جس میں ہزاروں لوگوں کو زیر زمین رکھنا پڑتا ہے۔ٹھیک سیاسی قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بند کیا گیا ہے اور بھی بہت سے ممالک میں یہ سب کچھ ہوتا تھا۔ایک دن ایک ایسی ہی عمارت میں ہمیں ہے لیکن اسلامی ممالک میں تو ایسا نہیں ہونا تھوڑی دیر کے لئے رکھا گیا۔اصل پولیس والے چاہئے۔ٹھیک ہے ہمارے ملک پاکستان کی ہمیں ایک دیوار کے ساتھ لگ کے کھڑا ہونے کا پولیس بھی اپنے کارناموں کے لئے مشہور ہے کہ حکم دے کر چلے گئے اور تقریباً دو گھنٹے واپس لیکن ایک ہی وقت میں صرف جیلمیں سیاسی نہیں آئے۔ایک کاہل اور سست قسم کا سپاہی قیدیوں کے لئے جگہ بنانے کے لئے تھیں قیدیوں صرف دروازے پر ہماری نگرانی کے لئے کرسی پہ کو گولی مار دینا یہ کچھ زیادہ ہی تھا۔ہو سکتا ہے بیٹھا تھا بلکہ زیادہ تر سویا ہوا تھا۔ہم میں سے جو اُس نے مبالغہ آرائی کی ہو لیکن بھی تھک کے بیٹھتا اُسے وہ کھڑا رہنے کا حکم دیتا۔اُسکے ایک سے زیادہ قیدیوں نے اس قسم کے واقعات ذکر کیا۔ہاتھ میں ڈنڈا تھا اور ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں۔پھر اگلے دنوں میں ہماری اوپر نیچے تین چار تھوڑی دیر بعد غالباً وہ سپاہی اپنی بوریت دور