دوزخ سے جنت تک — Page 47
) 47 بے قصور مارے جا رہے ہیں۔اس پر سقراط نے السلام علیکم یا جیبی کہہ کے اور ، پاکستان سریا (شام کہا تھا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں قصور وار ہوتا اور ( برادر برادر کہہ کہہ کے انکے ساتھ شریک مارا جاتا۔تو ہمیں یہ تسلی ضرور تھی کہ ہم نے خود کوئی ہو جاتے۔بعض وضع دار تو خاموش رہتے لیکن جرم نہیں کیا۔بعض غیر ادبی قسم کے لوگ ہمیں باہر نکال دیتے اس جیل میں ہمیں پندرہ دن گزر گئے۔ان تھے۔ہم بھی مسکراتے ہوئے ایسے ظاہر کرتے کہ پندرہ دنوں میں شامی قیدی ہمارے بڑے اچھے یہ تو معمولی بے عزتی ہے۔اس جیل میں قیام کے دوست بن گئے۔لیکن ہماری بے تکلفی کی وجہ دوران مجھے پر ایسے ایسے انکشافات ہوئے جو و سے آہستہ آہستہ وہ کھانے کے اوقات میں ہم میرے لئے بہت اذیت کا باعث تھے۔صحافت سے نظریں چراتے تھے۔شروع میں ہمیں کبھی ہمیشہ سے میرا پسندیدہ شعبہ رہا ہے سو وہاں بھی کبھی قہوہ پلا دیتے تھے تا ہم تھوڑے دنوں بعد میں نے بے شمار قیدیوں کے انٹر ویو کئے۔وہ جب انہوں نے دیکھا کہ ہم میں تکلف نامی کوئی کیسے یہاں تک پہنچے کیوں پہنچے۔یہاں ہر موڑ پر چیز نہیں ہے تو وہ چھپ چھپ کے پینے لگے۔کھانا حافظ الاسد کی تصویر کیوں ہے۔جیل کے فلاں دن میں دو بار ملتا تھا لیکن پورا پورا ہوتا تھا ایسا بلاک میں جانا کیوں ممنوع ہے۔ہر قیدی کی اپنی ا کہ پیٹ نہیں بھرتا تھا اور ہر وقت بھوک کا دنیا اپنے حالات اور اپنی کہانی تھی۔ایک قیدی احساس رہتا تھا یا شائد میرے لئے وہ کھانا کھانا نے کہا کہ ایک دفعہ وہ ایک ایسے کمرے میں ایک مشکل ہوتا تھا۔کئی دفعہ تو ایسے ہوتا تھا کہ کسی کے ایسی حوالات میں بند تھا جہاں اور قیدی نہیں گھر سے کھانا آتا تو وہ ہم سے بچنے کے لئے ڈالے جاسکتے تھے۔اس لئے وہاں سے تھیں چادریں تان کے کھانا کھاتے تھے۔لیکن ہم بھی قیدیوں کو نکال کے لبنان کے باڈر پر چھوڑا گیا چادر کے نیچے سے رینگ کے اندر پہنچ جاتے اور کہ لبنان بھاگ جاؤ اور پھر اُن کو گولی مار دی گئی۔