دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 46 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 46

) 46 یہ سہولتیں عارضی ہیں اور دوبارہ میسر نہ ہوں گی۔نہ بنایا بلکہ اپنی ساری مال و دولت سے اُس پھر ایک بار یوں ہوا کہ انہوں نے ایک نیا بادشاہ بیابان میں اپنے لئے عظیم الشان محل باغات اور چنا۔یہ بادشاہ کوئی الگ ہی قسم کا تھا۔اس بادشاہ ساری سہولیتں بنوالی ہیں جہاں اُسنے یقینا رہنا نے پہلے دن سے ہی اپنی زندگی انتہائی سادہ ہے۔کہانی کا نتیجہ یہ ہے کہ عقلمند لوگ اگلے جہان گزارنی شروع کی اور باوجود مال و دولت اور کے لیے بھی اپنی بھر پور تیاری رکھتے ہیں۔شامی آرام و آسائش کے وہ اپنے لئے انتہائی سادہ قیدیوں کو یہ کہانی اچھی لگی۔زندگی پسند کرتا۔دس سال جب ختم ہونے کو آئے جیل میں صرف ایک چیز جو ہمارے دلوں کو تو یہ بادشاہ پہلے کی نسبت زیادہ خوش رہنے لگا۔حوصلہ دیتی تھی وہ یہ تھی کہ ہم ایک حد تک بے جوں جوں وقت قریب آتا جاتا تھا وہ بادشاہ پہلے دنوں کی نسبت زیادہ خوش ہوتا اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ اُس جنگل بیابان میں جانے سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہے بلکہ وہاں جانے کے لئے بے تاب ہے۔لوگوں نے کہا کہ بادشاہ دیوانہ ہے قصور تھے یا ہم نے کوئی بہت بڑا یا غیر اخلاقی ساری عمر تو سادگی سے اور ڈرتے ہوئے گزاری جرم نہیں کیا تھا۔ہم نے ایجنٹ کو جرمنی کے اصلی اور اب جب کہ جنگل بیابان میں جانے کا وقت ویزے کے پیسے دیئے تھے اُس نے ہمیں جعلی ہے تو مطمئن اور شادمان نظر آتا ہے۔لوگوں کا ویزے دیئے تھے۔سقراط کی وہ بات یاد آتی تھی تعجب اور حیرت دور کرنے کے لئے بادشاہ نے کہ جب اُسے سزائے موت کا حکم سنائے جانے بتایا کہ چونکہ اُسے علم تھا کہ آخر کار اُسنے اُس کے بعد پینے کو زہر کا پیالہ دیا گیا تو اُس کے بیابان میں جانا ہے اسلئے اُس نے یہاں کچھ بھی شاگر د نے کہا کہ مجھے اس بات کا غم ہے کہ آپ