دوزخ سے جنت تک — Page 35
) 35 تھے۔بعض کا نام مصلحتاً نہیں لکھ رہا۔ایک تھے ملا تھا۔بات ہو رہی تھی جیل کی تو کچھ ہی دنوں میں وسیم صاحب۔وسیم دبلے پتلے جسم کا لیکن بہت جیل میں ہم عربی قیدیوں سے گھل مل گئے اور ٹوٹی صابر نو جوان تھا۔کھانا ملے نہ ملے نماز اُسنے وقت پھوٹی انگلش اردو عربی میں ایک دوسرے کو لطیفے پر پڑھنی ہوتی تھی۔پریشانی اُسے چھو کے نہیں سناتے تھے ایک روز صبح صبح دروازہ کھلا اور مجھے گئی تھی۔جیل میں وہ ایسے مزے سے رہتا تھا اور میرے ایک ساتھی نصیر کو باہر بلایا گیا۔ہمیں جیسا اُسے پتہ ہو کہ یہ تو پہلے سے ہی تقدیر میں لکھا ایک بڑے ہال کے سامنے لے گئے اور بتایا ہوا تھا۔جس طرح میں ہر موقع پر دوستوں کو کہتا تھا کہ اسکے اندر کوئی گٹر بلاک ہو گیا ہے جسکی وجہ کہ شائد اس میں بھی خدا کی کوئی بہتری ہوگی۔سے سارا ہال پانی سے بھر گیا ہے ہمیں اُس ہال وسیم بھی ہر وقت صبر کی تلقین کرتا تھا۔ایک دو میں گھر کھولنا ہے۔یہ کہہ کے ہم دونوں کو اس دوست تھے جو ہمیں خوفزدہ کرنے میں پیش پیش تاریک ہال میں بھیج دیا گیا جس میں گھٹنے گھٹنے تھے اور کہتے رہتے تھے کہ شاید اب ہم اسی جیل بدبودار اور سیاہ پانی کھڑا تھا۔ہال میں بہت مدھم میں دم تو ڑیں گے۔روشنی تھی۔اوپر ہمیں بجلی کے پرانے پرانے میٹر اس جیل میں اور بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔بہت اور تاریں نظر آ رہی تھیں۔اندھیرا تنا تھا کہ ہم سے واقعات میں جان بوجھ کے نہیں لکھ رہا۔یہ دونوں ایک دوسرے کو بمشکل دکھائی دیتے تھے۔بھی ممکن ہے کہ شام کے لوگ بہت پیارے ہوں ڈرتے ڈرتے ہم نے ٹراؤزر اوپر کئے اور ایک وہاں بہت انصاف ہو۔وہاں کی حکومت بہت دوسرے کا ہاتھ پکڑ کے ہال کے گندے پانی میں اچھی ہو وہاں کا نظام بہت اچھا ہو اور رعایا حافظ پاؤں ڈال دیئے۔انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ الاسد سے بہت پیار کرتی ہو لیکن بدقسمتی سے ہمیں ہال کے چاروں کونوں میں گٹر کے پائپ ہیں اور صرف ملک شام کا صرف تاریک پہلو ہی دیکھنے کو ان میں سے کوئی ایک یا سارے ہی بلاک