دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 34 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 34

) 34 ہمارے باہر والے دوست تبارک نے پاکستانی میں سہگل کا وہ دردناک گانا سنایا ے ایمسیسی کو خبر کر دی تھی اور شامی پولیس سے اُنکا اے کاتب تقدیر مجھے اتنا بتا دے رابطہ ہو گیا تھا۔تفتیش کے دوران ہم نے ایمبیسی کیوں مجھ سے خفا ہے تو ، کیا میں نے کیا ہے کے آدمی کو ساری بات بتائی جس پر اُسے یقین ہو ایک اور پاکستانی شخص جو کئی سالوں سے دمشق گیا کہ ہم تو خود مظلوم ہیں۔اُس نے شامی پولیس کے تہہ خانوں میں قید تھا اسکی آواز بہت اچھی تھی کی تسلی کروا دی اور پھر ہمیں تسلی دی کہ اب شامی اُسنے ہمیں پاکستان کے ملی نغمے سنائے جنہیں لیس کو یقین ہو گیا ہے کہ ہم سب پاکستانی ہی سن کے دل غم سے بھر گیا کہ واقعی ہمارا اپنا دیس ہیں ہم میں سے کوئی اسرائیلی جاسوس نہیں ہے اور ہمارا وطن کتنا خوبصورت ہے اس کے لوگ کتنے نہ ہی اصل ایجنٹ ہم میں موجود ہے۔ہمارے خوبصورت اور محبت کرنے والے ہیں لیکن بعض سوٹ کیس اور ہمارا سارا سامان بھی ہوٹل سے مفاد پرست مذہبی دکانداروں اور سیاسی شعبدہ منگوا کے چیک کر لیا گیا تھا اور سارے شواہد ہمیں بازوں نے ہمارے وطن کا چہرہ اس طرح بگاڑ بے قصور ثابت کر رہے تھے۔ہمیں بتایا کہ کل دیا ہے کہ لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ وہ ملک ہے جسکا ہمیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔ایسے ہمارے لئے یہ خوشی کی اتنی بڑی خبر تھی کہ اُس حالات سے تنگ آ کے مجھ جیسے کئی نوجوان دیار دن جب ہم اپنی کوٹھٹری واپس پہنچے تو ہمیں لگا غیر کو نکل جانے کا سوچتے ہیں اور راستوں میں کہ ہم کسی فائیو سٹار ہوٹل میں آگئے ہیں۔سب ایسی تکلیفیں اٹھاتے ہیں جن سے ہم گزر رہے نے خوب پیسے نکال کے بہترین کھانا منگوایا۔تھے۔اس جیل میں اپنے گروپ میں نے ابھی سپاہیوں کو پیسے دے کے قہوے کا آڈر کیا خود بھی تک بشارت صالح، جمشید ،نصیر اور اشرف کا کے کا پیا اور سب کو پلایا۔نصیر نے اپنی خوبصورت آواز ذکر کیا ہے اسکے علاوہ بھی ہمارے کچھ دوست