دوزخ سے جنت تک — Page 17
) 17 دیا کہ میرا نام مبارک ہے۔اُنکے لئے یہ ہی بہت بھر پور کہانی سنا رہا ہو۔بڑی کامیابی تھی کہ انہوں نے عربی میں مجھ سے اس نے ایک فائل کھولی اور ایک شخص کی تصویر پوچھا تھا اور مجھے سوال کی سمجھ آگئی تھی۔اُنکو کیا میرے سامنے رکھ دی۔تصویر دیکھ کے میں ہکا بکا پتہ کہ اتنی عربی تو سب کو آتی ہے لیکن اُس وقت رہ گیا۔میں نے اپنے چہرے اور جسم پر ہاتھ مل عربی زبان کا وہ انتہائی معمولی سا علم بھی میرے کے دیکھا۔وہ واقعی مجھ سے ملتا جلتا کوئی شخص تھا لئے مشکل کا باعث بن گیا ایک جذباتی قسم کے صرف فرق یہ تھا کہ اُسکی داڑھی بھی تھی۔ایک سپاہی نے میری گردن پر دو تین تھپڑ لگائے اور لمحے کے لئے تو مجھے بھی شک پڑ گیا کہ واقعی کہیں چینیا عربی بولو۔عربی بولو۔عربی بولو۔مجھے عربی میں اسرائیلی دہشت گرد تو نہیں ہوں۔میں نے آتی ہوتی تو بولتا۔حواس جمع کرتے ہوئے اُسے ساری بات پھر میز کے اُس طرف بیٹھے ہوئے بڑے جلدی جلدی سنا دی کہ پاکستان سے کوئی ایجنٹ پولیس آفیسر نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کے لئے ہم سے پیسے لے کے ہمیں یہاں لایا ہے جرمنی اشارہ کیا پانی پلایا اور انگلش زبان میں بڑی نرم بجھوانے کے لئے۔فلاں ہوٹل میں ہم ٹھہرے آواز میں مجھے کہنے لگا کہ ہمیں معلوم ہے کہ تم ہوئے تھے ابھی ہمارے سوٹ کیس بھی وہیں جان بوجھ کے عربی نہیں بول رہے تم ایک پڑے ہیں۔اُس نے اُسی وقت وہاں چھاپہ ا اسرائیلی دہشت گرد ہو جسکی ہمیں کئی برسوں سے مارنے کا حکم دیا اور مجھے ایک طرف بیٹھنے کا حکم دیا تلاش ہے۔اُسکی عجیب و غریب باتیں سن کے تھوڑی دیر بعد دو تین آدمی اندر داخل ہوئے یہ میری آنکھیں بھینگی ہور میں تھیں اور میں منہ کھول وہی ٹریول ایجنٹ تھے جن سے میں نے ٹکٹ کے کے اُسکی طرف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ لئے بات کی تھی۔مجھے دیکھتے ہی انہوں نے شور مجھے جادو کے کرتب دکھا رہا ہو یا کوئی مجس سے سے مچا دیا۔ہلا ہلا واللہ پر نہیں کیا کہ رہے تھے لیکن