دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 10 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 10

) 10 دمشق کے بیچوں بیچ دریائے برادا بہتا تھا ہوئی موجود تھی۔میں فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ اسکا۔ویسے اگر امن اور فراخی ہو تو یہ ملک رہنے والا باعث محبت ہے یا خوف۔ویسے وہ محبت جو خوف ہے۔خاص طور پر اُس کے لئے جسے تاریخ و سے پیدا ہوتی ہے زیادہ دیر نہیں رہتی ایک دن ثقافت سے دلچسپی ہو۔لوگ بہت پیار کرنے غضب کی صورت میں بہت کچھ تباہ کر دیتی ہے۔والے مہربان اور خوبصورت تھے۔تقریباً ہر میں نے ایک دو ٹیکسی والوں سے پوچھا کہ تم نے دکاندار نے اپنے ساتھ ایک قہوے کا تھر موس ٹیکسی میں حافظ الاسد کی تصویر کیوں لگائی ہوئی بھی رکھا ہوا تھا اور مہمان کو ایک کپ قہوہ پیش ہے تو جواب ملا ہمیں اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرنے میں دیر نہ کرتے تھے۔شام کے لوگ ہے۔ایک ٹیکسی والے نے میرے زیادہ سوال واقعتا بڑے مدد کرنے والے اور ملنسار تھے جس کو پوچھنے پر مجھے ٹیکسی سے فوراً اُتار دیا کہ تم مجھے ایک دفعہ ہم مل لیتے وہ دوسری دفعہ ایسے ملتا جیسے خفیہ پولیس والے لگتے ہو۔مجھے بڑی حیرت پرانا واقف ہو۔اُن کے اخلاق سے ہم بہت ہوئی۔دمشق میں کھڑے ہو کے ارد گرد دور تک پہاڑیوں کا سلسلہ نظر آتا تھا بلکہ یوں کہیں کہ پہاڑوں کے دامن میں ایک پیالے کی شکل میں یہ شہر آباد ہے۔ہمارے ساتھ ایک گائیڈ تھا جو متاثر ہوئے۔تاہم مزاج میں انتہاء بھی موجود ہمیں مختلف زیارتیں الله الله الرحمن الريال عقار الر نامه رسول الله تھی۔جہاں بہت پیار کرنے والے لوگ تھے دکھا تار ہا اور ساتھ ساتھ ہمیں اسکی تاریخ سے آگاہ وہیں یزید کے باقیات بھی نظر آتی تھیں۔ہر کرتارہا۔اُسکا یہ پیشہ تھا۔معروف قبرستان باب عمارت پہ حافظ الاسد کی قد آدم تصویر عوام کو دیکھتی الصغیر دیکھنے کا موقع ملا۔حضرت بلال حبشی رضی