دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 61 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 61

) 61 پکڑا ہوا ہو۔ہماری اپنی کوئی مرضی نہیں تھی کیونکہ اور شدید سردی ہونے کے باعث اُنکے منہ سے اُن پہاڑی رستوں میں مبارک ہی ہمارا رہنما بھاپ نکلا رہی تھی پانچ چھ فوجی ہم پہ بندوقیں تھا۔کچھ دیر تک ہم مبارک کے اشاروں پر اُسکے تانیں کھڑے رہے جبکہ ایک نے آکے ہماری پیچھے ایک گہرے خشک نالے میں جھک کے جامہ تلاشی لی۔تلاشی کے دوران مبارک اُنکے چلتے رہے۔پھر ہمیں فوجی بوٹوں کی آوازیں آنی پاؤں میں پڑا گڑ گڑا تارہا اور عربی زبان میں کچھ شروع ہوگئیں۔وہ ہماری ہی طرف بڑھ رہے کہتا رہا۔اُس نے یہ دانائی ضرور کی کہ انکے تھے اور ساتھ اونچی اونچی آواز میں للکار رہے گرجنے کے باوجود ساری کہانی اُنکو سنادی کہ تھے۔مبارک نے کہا ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے۔انہوں نے مبارک کو شائد ہمارا آخری وقت آ گیا ہے۔اب فوجیوں کی آوازیں بہت قریب پہنچ گئی تھیں۔مبارک نے بندوق کے بٹوں سے اچھا خاصاز دو کوب کیا اور پھر ہم پانچوں کو گن پوائنٹ پر ہمت کرتے ہوئے چھے چھپے ہی عربی زبان میں اپنے کیمپ کی طرف لے گئے۔مبارک مسلسل کچھ چلانا شروع کر دیا اور کسی فوجی کا آرڈر سننے ہاتھ باندھے اُنکی منت سماجت کر رہا تھا اور ساتھ کے بعد ہمیں حکم دیا کہ ہاتھ اپنے سروں کے پیچھے ساتھ ہماری حالت زار بیان کر رہا تھا وہ چاہ رہا تھا باندھ کے کھڑے ہو جاؤ۔اگلے ہی لمحوں میں چھ کہ اس سے پہلے کہ وہ گولی چلائیں انہیں ہماری سات فوجی بندوقیں تانیں دوڑتے اور گرجتے اور اپنی صورتحال بتا دیں کہ ہم کوئی دہشت گرد ہوئے ہمارے روبرو پہنچ گئے۔وہ فوجی سرخ و نہیں ہیں بلکہ صرف مجبوری میں بارڈر کراس کرنا سفید اور انتہائی سفاک قسم کے تھے۔صبح کا وقت چاہ رہے ہیں۔کیمپ کے قریب پہنچنے پر ہمیں گن