ولکن شُبّھہ لھم — Page 36
یہی حال آپ کی بیان کردہ روایت تغیر ان کثیر کی سند کا ہے۔یر ی ہے کہ کس طرح آپ نے بات تحقیق اس مزدور سند کو سند مسیح قرار دے دیا شاید اسی لیے آپ نے سند نقل کرنے کی زحمت نہیں فرمائی اگر آپ کو بند کے راویوں کے اسماء سے اطلاع ہوتی اور کتب رجال سے ان کے احوال دریافت کیے ہوتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ اس سند کے ایک راوی متهال بن عمرو کو تو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ر تہذیب التہذیب جلد نمبر ۱ ۳۳۲ از علامه ابن حجر عسقلانی) دائرۃ المعارف التظاميه الكامنه في الهند ۱۳۲۸ من عمر و سه عیدآباد ) تركي اس سند کے دوسرے راوی ابو معاویہ شیبان بن عبد الرحمان میں جو خود شفتہ ہیں اور اُن کی اعمش۔البومعاویہ سے مروی روایات ایسی منفر در احادیث ہوتی ہیں جو منکر ہیں۔ابو حاتم ان کی روایت سے دلیل پکڑنے کو جائز نہیں سمجھتے اور ابو معاویہ کی یہ روایت اعمش سے مروی ہے لہذا منکر ہوئی۔ر تهذيب التهذيب جلد مشا۳ از این مجر مستقلانی بطبعه فلس دائرة العارف ۱۳۲۵ لمر د سه میلہ آباد) لدھیانوی صاحب ! اس تحقیق حق کے بعد تو مسیح علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے سب رستے مسرور ہو گئے ہیں۔% 4 آپ نے علامہ عبید اللہ سندھی صاحب کی تفسیر الہام الرحمان کو ان کی تصنیف تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔مولوی صاحب ! معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے وہ تغیر ا ٹھاکر ہی نہیں دیکھی۔یا دیکھی ہے تو حسب عادت ان شواہد سے صرف نظر کر گئے ہیں جو اسی کتاب میں آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔زیر بحث کتاب کے دیباچہ میں مولوی عید اٹھی صاحب نے قطعی شہادت پیش کی ہے کہ :۔