ولکن شُبّھہ لھم — Page 22
۲۲ كفر دیواله المحادي للمعادى جز ۲ ملام پھر اس مدعی سے کہا جائے گا کہ کیا تم اس حدیث کے ظاہر کو لیتے ہو اور جو مطلب ہم نے اس کا کیا ہے اس پر عمول نہیں کرتے ہو ؟ تو اس صورت میں تجھے دو میں سے ایک صورت لازم آئے گی یا یہ کہ نزول عیسی علیہ السلام کی نفی کرد یا بوقت نزول ان سے نبوت کی نفی کرو اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔ند تو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا شاید آنجناب نے "الحادی" میں یا تو اس سوالے کا سیاق و سباق ملاحظہ نہیں فرمایا یا پھر عمدا کتر بیونت سے کام لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نزولِ مسیح کا انکار کفر ہے۔نزول مسیح سے کسی بھلے مانس کو انکار ہے۔ہمیں تو نزول مسیح کے بارے میں آپ کی سراسر مخالت قرآن و حدیث تشریح اور تاویل بعیدہ سے انکار ہے کہ ۱۹۰۰ سالہ مسیح جسم سمیت آسمان سے اترے گا۔نزول کے معنی کی وضاحت بعد ہم آپکی تحریف کا پول کھولیں گے۔تعجب ہے کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تن انزل الله إِلَيْكُمْ ذِكْراهُ رَسُولاً (الطلاق: ۱۲٫۱۱) میں نزول کا لفظ آئے تو اس سے آپ حضرت آمنہ کے بطن سے پیدا ہونا مراد لیتے ا ہیں۔اور مسیح کے بارے میں اسی لفظ نزول کو جسم سمیت آسمان سے اترنے پر محمول کرتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے۔قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا۔(الاعراف: ۲۷) وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ - (الحديد: ۲۶) وَأَنْزَلَ لكُم مِّنَ الاَ تَعامِ ثَانِيَةً أَزْوَاج (الزمرة )