ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 54 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 54

پس اگر ثابت ہو جائے کہ وہ فوت ہو چکا ہے تو لازما آپ کو ماننا ہو گا کہ میں آنے والے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسی بن مریم نبی اللہ کے لقب سے یاد فرما ر ہے تھے وہ بطور استعارہ استعمال فرما رہے تھے جیسے کسی بہت بڑے سخنی کو حاتم طائی کہہ دیا جاتا ہے یا جس طرح حضرت ی علیہ السلام کو خود حضرت مسیح علیہ السّلام نے آسمان سے اتر نے والا ایلیا و قرار دیا۔فرمایا وہ ایلیاء جو آنے والا تھا یہی بھی ذکریا کا بیٹا ہے جس کو تم نے شناخت نہیں کیا (متی بات آیت ۱۰ تا ۱۳) پس یہ صاف بحث ہے اور اسی سلسلہ میں یہ رسالہ تحریر کیا جارھا ہے اور ایسے قومی دلائل سے آپ کے طفلانہ دلائل کو توڑا جارہا ہے کہ اگر آپ نہیں انصاف کا مادہ ہو تو قرآن وحدیث اور عقلی دلائل کی رو سے جرات کے ساتھ یہ اعلان کریں کہ یقیناً مسیح عیسی ابن مریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام نبیوں کی طرح فوت ہو چکا اور آنے والا مسیح اسی کے نام پر اس کی خو پر آنے والا امت محمدیہ ہی کا ایک رجل عظیم ہو گا جس کو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ کے لقب سے یاد فرمایا ہے۔مولانا ! آپ نے غلط مبحث کر کے خوامخواہ قارئین کی توجہ ایک طور پر پھیرنے کی کوشش کی ہے۔اگر آپ نے یہی طرفہ اختیار کی ہے تو یاد رکھیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ یه قطعی گواہی بہت بڑی فوقیت رکھتی ہے کہ تُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لاني بَعْدَهُ تما مجمع بحارالانوار الجلد الرابع صفه نبرد از وانا شیخ عمار المطلع العمل منشی نول کشورم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء تو کم مگریہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اسی قول کی تشریح میں حضرت امام ابن عربی فرماتے ہیں