حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 25
25 الْقُرْبى یعنی اول نیکی کرنے میں تم عدل کو لوظ رکھو۔جوشخص تم سے نیکی کرے تم بھی اس کے ساتھ نیکی کرو۔اور پھر دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اس سے بھی بڑھ کر اس سے سلوک کرو۔یہ احسان ہے۔احسان کا درجہ اگر چہ عدل سے بڑھا ہوا ہے۔اور یہ بڑی بھاری نیکی ہے لیکن کبھی نہ کبھی ممکن ہے احسان والا اپنا احسان جتلاوے مگر ان سب سے بڑھ کر ایک درجہ ہے کہ انسان ایسے طور پر نیکی کرے جو محبت ذاتی کے رنگ میں ہو۔جس میں احسان نمائی کا بھی کوئی حصہ نہیں ہوتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے۔وہ اس پرورش میں کسی اجر اور صلے کی خواستگار نہیں ہوتی۔بلکہ ایک طبعی جوش ہوتا ہے جو بچے کے لئے اپنے سارے سکھ اور آرام قربان کر دیتی ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی بادشاہ کسی ماں کو حکم دے دے کہ تو اپنے بچہ کو دودھ مت پلا۔اور اگر ایسا کرنے سے بچہ ضائع بھی ہو جاوے تو اس کو کوئی سزا نہیں ہوگی تو کیا ماں ایسا حکم سن کر خوش ہوگی ؟ اور اس کی تعمیل کرے گی ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ وہ تو اپنے دل میں ایسے بادشاہ کو کوسے گی کہ کیوں اس نے ایسا حکم دیا۔پس اس طریق پر نیکی ہو کہ اسے طبعی مرتبہ تک پہنچایا جاوے۔کیونکہ جب کوئی شئے ترقی کرتے کرتے اپنے طبعی کمال تک پہنچ جاتی ہے اس وقت وہ کامل ہوتی ہے۔یا درکھو کہ خدا تعالیٰ نیکی کو بہت پسند کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق سے ہمدردی کی جاوے۔اگر وہ بدی کو پسند کرتا تو بدی کی تاکید کرتا۔مگر اللہ تعالیٰ کی شان اس سے پاک ہے۔(سبحانہ تعالیٰ شانہ ) انحل: 91 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں پر نظر بعض لوگ جن کو حق کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے جب ایسی تعلیم سنتے ہیں تو اور کچھ نہیں