حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 24
24 حدیث میں بھی ذکر آیا ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ایام جاہلیت میں میں نے بہت کچھ خرچ کیا تھا۔کیا اس کا ثواب بھی مجھے ہو گا ؟ آنحضرت مع اللہ نے اس کو جواب دیا کہ یہ اسی صدقہ و خیرات کا ثمرہ تو ہے کہ تو مسلمان ہو گیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کے ادنی افعل اخلاص کو بھی ضائع نہیں کرتا۔اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کی ہمدردی اور خبر گیری حقوق اللہ کی حفاظت کا باعث ہو جاتی ہے۔پس مخلوق کی ہمدردی ایک ایسی شئے ہے کہ اگر انسان اسے چھوڑ دے اور اس سے دور ہوتا جاوے تو رفتہ رفتہ پھر وہ درندہ ہو جاتا ہے۔انسان کی انسانیت کا یہی تقاضا ہے اور وہ اسی وقت تک انسان ہے جب تک اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ مروت ،سلوک اور احسان سے کام لیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے جیسا کہ سعدی نے کہا ہے۔بنی آدم اعضائے یک دیگراند یا د رکھو ہمدردی کا دائرہ میرے نزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اور فرد کو الگ نہ کرے۔میں آج کل کے جاہلوں کی طرح یہ نہیں کہنا چاہتا کہ تم اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں سے ہی مخصوص کرو۔نہیں میں کہتا ہوں کہ تم خدا تعالی کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ وہ کوئی ہو۔ہندو ہو یا مسلمان یا کوئی اور۔میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی ہی قوم سے مخصوص کرنا چاہتے ہیں۔ان میں بعض اس قسم کے خیالات بھی رکھتے ہیں کہ اگر ایک شیرے کے مکے میں ہاتھ ڈالا جاوے اور پھر اس کو تلوں میں ڈال کر تل لگائے جاویں تو جس قدر تل اس کو لگ جاویں۔اس قدر دھوکا اور فریب دوسرے لوگوں کو دے سکتے ہیں۔ان کی ایسی بے ہودہ اور خیالی باتوں نے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔اور ان کو قریباً وحشی اور درندہ بنا دیا ہے۔مگر میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہرگز ہرگز اپنی ہمدردی کے دائرہ کو محدود نہ کرو۔اور ہمدردی کے لئے اس تعلیم کی پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔یعنی اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي