حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 21
21 ایک حق اللہ، دوسرے حق العباد حق اللہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی اطاعت، عبادت، توحید ، ذات اور صفات میں کسی دوسری ہستی کو شریک نہ کرنا۔اور حق العباد یہ ہے کہ اپنے بھائیوں سے تکبر ، خیانت اور ظلم کسی نوع کا نہ کیا جاوے۔گویا اخلاقی حصہ میں کسی قسم کا فتور نہ ہو۔سنے میں تو یہ دو ہی فقرے ہیں لیکن عمل کرنے میں بہت ہی مشکل ہیں۔اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل انسان پر ہوتو وہ ان دونوں پہلوؤں پر قائم ہوسکتا ہے۔کسی میں قوت غضبی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔جب وہ جوش مارتی ہے تو نہ اس کا دل پاک رہ سکتا ہے اور نہ زبان۔دل سے اپنے بھائی کے خلاف ناپاک منصو بے کرتا ہے۔اور زبان سے گالی دیتا ہے اور پھر کینہ پیدا کرتا ہے۔کسی میں قوت شہوت غالب ہوتی ہے اور وہ اس میں گرفتار ہو کر حدود اللہ کو توڑتا ہے۔غرض جب تک انسان کی اخلاقی حالت بالکل درست نہ ہو وہ کامل الایمان جو منعم علیہ گروہ میں داخل کرتا ہے اور جس کے ذریعہ سچی معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔پس دن رات یہی کوشش ہونی چاہئے کہ بعد اس کے جو انسان سچا موحد ہوا اپنے اخلاق کو درست کرے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی ہے۔اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک فنی نہیں رکھتے۔اور ادنی ادنی سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کرنے لگتے ہیں۔اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔اس لئے اول ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے۔اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے۔کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور اُنس پیدا ہوتا ہے۔اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے۔اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ، بغض، حسد وغیرہ سے بچارہتا ہے۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔اگر ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لئے