حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 18
18 سے۔انبیاء علیہم السلام کبھی کسی قوت اور طاقت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے وہ خدا ہی سے پاتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں۔ہاں ایسے لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام سے حالانکہ کروڑوں حصہ نیچے کے درجہ میں ہوتے ہیں جو دو دن نماز پڑھ کر تکبر کرنے لگتے ہیں اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ہے۔یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔جب تک انسان اس سے دور نہ ہو۔یہ قبول حق اور فیضانِ اُلوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے نہ علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے۔کیونکہ زیادہ تر انہیں باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا۔اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہوسکتا۔اور وہ معرفت جو جذبات کے موادر ڈیہ کو جلا دیتی ہے اسکو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہہ دیا اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا۔اور آدم لغزش پر (چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی ) اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے لگا اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِین۔یہی وہ ستر ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو کہا گیا کہ اے نیک اُستاد! تو انہوں نے کہا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے اس پر آج کل کے نادان عیسائی تو یہ کہتے ہیں کہ ان کا مطلب اس فقرہ سے یہ تھا کہ تو مجھے خدا کیوں نہیں کہتا۔حالانکہ حضرت مسیح نے بہت ہی لطیف بات کہی تھی جو انبیاء علیہم السلام کی فطرت الاعراف: ۱۳، ۱۲ الاعراف: ۲۴