حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 11
11 کے لئے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔اس لئے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہواور بھی مست تھکو۔غرض اصلاح نفس کے لئے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لئے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے۔اس میں جس قدر تو کل اور یقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا اور اس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے۔تمام مشکلات دُور ہو جائیں گی۔اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلیٰ محل پر پہنچ جائے گا۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا۔نفسانی جذبات پر محض خدا تعالیٰ کے فضل اور جذبہ ہی سے موت آتی ہے اور یہ فضل اور جذ بہ دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے۔اور یہ طاقت صرف دعا ہی سے ملتی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور خصوصاً ہماری جماعت کو ہرگز ہرگز دعا کی بے قدری نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ یہی دعا تو ہے جس پر مسلمانوں کو ناز کرنا چاہئے۔اور دوسرے مذاہب کے آگے تو دعا کے لئے گندے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور وہ توجہ نہیں کر سکتے۔میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ایک عیسائی جو خونِ مسیح پر ایمان لا کر سارے گناہوں کو معاف شدہ سمجھتا ہے اُسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دعا کرتا رہے اور ایک ہندو جو یقین کرتا ہے کہ تو بہ قبول ہی نہیں ہوتی اور تناسخ کے چکر سے رہائی ہی نہیں ہے وہ کیوں دعا کے واسطے ٹکریں مارتا رہے گا۔وہ تو یقینا سمجھتا ہے کہ کہتے ، بلے ، بندر، سور بننے سے چارہ ہی نہیں ہے۔اس لئے یاد رکھو کہ یہ اسلام کا فخر اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے۔اس میں کبھی سستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔پھر دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبر دست ثبوت ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے: وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت البقرة : ۱۸۷