حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 9
9 ہے۔اور اشیاء میں مختلف اثر دیکھے ہیں۔پھر جبکہ ان چیزوں میں تاثیرات موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دُعاؤں میں جو وہ بھی مخفی اسباب اور تدابیر ہیں اثر نہ ہوں؟ اثر ہیں اور ضرور ہیں۔لیکن تھوڑے لوگ ہیں جو اِن تاثیرات سے واقف اور آشنا ہیں اس لئے انکار کر بیٹھتے ہیں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ چونکہ بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہیں جو اس نقطہ سے جہاں دعا اثر کرتی ہے دُور رہ جاتے ہیں اور وہ تھک کر دعا چھوڑ دیتے ہیں اور خود ہی یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ دعاؤں میں کوئی اثر نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ یہ تو اُن کی اپنی غلطی اور کمزوری ہے۔جب تک کافی وزن نہ ہو خواہ زہر ہو یا تریاق اس کا اثر نہیں ہوتا۔کسی کو بھوک لگی ہوئی ہو اور وہ چاہے کہ ایک دانہ سے پیٹ بھر لے یا تو لہ بھر غذا کھالے تو کیا ہوسکتا ہے کہ وہ سیر ہو جاوے؟ کبھی نہیں۔اسی طرح جس کو پیاس لگی ہوئی ہے ایک قطرہ پانی سے اس کی پیاس کب بجھ سکتی ہے۔بلکہ سیر ہونے کے لئے چاہیے کہ وہ کافی غذا کھاوے اور پیاس بجھانے کے واسطے لازم ہے کہ کافی پانی پیوے۔تب جا کر اس کی تسلی ہوسکتی ہے۔اسی طرح پر دعا کرتے وقت بے دلی اور گھبراہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے۔اور جلدی ہی تھک کر نہیں بیٹھنا چاہئے۔بلکہ اس وقت تک ہٹنا نہیں چاہئے جب تک دعا اپنا پورا اثر نہ دکھائے۔جولوگ تھک جاتے اور گھبرا جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہ محروم رہ جانے کی نشانی ہے۔میرے نزدیک دعا بہت عمدہ چیز ہے اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں خیالی بات نہیں۔جو مشکل کسی تدبیر سے حل نہ ہوتی ہو اللہ تعالیٰ دعا کے ذریعہ اُسے آسان کر دیتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ دعا بڑی زبر دست اثر والی چیز ہے۔بیماری سے شفا اس کے ذریعہ ملتی ہے۔دنیا کی تنگیاں مشکلات اس سے دور ہوتی ہیں۔دشمنوں کے منصوبے سے یہ بچا لیتی ہے۔اور وہ کیا چیز ہے جو دعا سے حاصل نہیں ہوتی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو پاک یہ کرتی ہے اور خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان یہ بخشتی ہے۔گناہ سے نجات دیتی ہے اور نیکیوں پر استقامت اس کے ذریعہ سے آتی ہے۔بڑا ہی خوش قسمت وہ شخص