حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 19

19 کا خاصہ ہے۔وہ جانتے تھے کہ حقیقی نیکی تو خدا تعالیٰ ہی سے آتی ہے۔وہی اس کا چشمہ ہے اور وہیں سے وہ انترتی ہے۔وہ جس کو چاہے عطا کرے اور جب چاہے سلب کر لے۔مگران نادانوں نے ایک عمدہ اور قابل قدر بات کو معیوب بنا دیا۔اور حضرت عیسی کو متکبر ثابت کیا حالانکہ وہ ایک منکسر المزاج انسان تھے۔پاک ہونے کا ایک طریق پس میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔نہ علمی ، نہ خاندانی، نہ مالی۔جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جوان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے۔اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے۔اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقومی ، ایمان، عبادت، طہارت، سب کچھ آسمان سے آتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشئی محض سمجھے۔اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے۔اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لئے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشئی سمجھے گا اسی قدر کیفیات