حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 10

10 ہے جس کو دعا پر ایمان ہے۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کو دیکھتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لاتا ہے کہ وہ قادر کریم خدا ہے۔اللہ تعالیٰ نے شروع قرآن ہی میں دعا سکھائی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑی عظیم الشان اور ضروری چیز ہے۔اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ : اس میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات کو جوائم الصفات ہیں بیان فرمایا ہے۔رب العلمین ظاہر کرتا ہے کہ وہ ذرہ ذرہ کی ربوبیت کر رہا ہے۔عالم اُسے کہتے ہیں جس کی خبر مل سکے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں ہے جس کی ربوبیت نہ کرتا ہو۔ارواح اجسام وغیرہ سب کی ربوبیت کر رہا ہے۔وہی ہے جو ہر ایک چیز کے حسب حال اس کی پرورش کرتا ہے۔جہاں جسم کی پرورش فرماتا ہے وہاں رُوح کی سیری اور تسلی کے لئے معارف اور حقائق وہی عطا فرماتا ہے۔پھر فرمایا ہے کہ وہ رحمن ہے۔یعنی اعمال سے بھی پیشتر اس کی رحمتیں موجود ہیں۔پیدا ہونے سے پہلے ہی زمین، چاند، سورج ، ہوا، پانی وغیرہ جس قدر اشیاء انسان کے لئے ضروری ہیں موجود ہوتی ہیں۔اور پھر وہ اللہ رحیم ہے یعنی کسی کے نیک اعمال کو ضائع نہیں کرتا بلکہ پاداش عمل دیتا ہے۔پھر مالک یوم الدین ہے یعنی جز او ہی دیتا ہے۔اور وہی یوم الجزاء کا مالک ہے۔اس قدر صفات اللہ کے بیان کے بعد دعا کی تحریک کی ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات پر ایمان لاتا ہے تو خواہ مخواہ رُوح میں ایک جوش اور تحریک ہوتی ہے اور دعا کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتی ہے۔اس لئے اس کے بعد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی ہدایت فرمائی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور الفاتحه : ۲ تا ۴