حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 33
33 کہ خدا تعالیٰ کو ہر ایک بات پر قادر مطلق جانا جاوے اور کسی قسم کی بدظنی اس پر نہ کی جاوے۔جو بدظنی کرتا ہے وہی کافر ہوتا ہے۔مومن کی صفات میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو غایت درجہ قادر جانے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہت نیکیاں کرنے سے انسان ولی بنتا ہے۔یہ نادانی ہے۔مومن کو تو خدا تعالیٰ نے اول ہی ولی بنایا ہے۔جیسے کہ فرمایا: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ امنوا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ہزاروں عجائبات ہیں اور انہیں پر کھلتے ہیں جو دل کے دروازے کھول کر رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بخیل نہیں ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مکان کا دروازہ خود ہی نہیں کھولتا تو پھر روشنی کیسے اندر آوے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف رجوع کرے گا۔ہاں یہ ضروری ہے کہ جہاں تک بس چل سکے وہ اپنی طرف سے کوتاہی نہ کرے۔پھر جب اس کی کوشش اس کے اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچے گی تو وہ خدا تعالیٰ کے نور کو دیکھ لے گا۔وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے اسے بجالائے۔یہ نہ کرے کہ اگر پانی ۲۰ ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو وہ صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت ہار دے۔ہر ایک کام میں کامیابی کی یہی جڑ ہے کہ ہمت نہ ہارے۔پھر اس امت کے لئے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی پورے طور سے دعا وتزکیہ نفس سے کام لے گا تو سب وعدے قرآن شریف کے اس کے ساتھ پورے ہو کر رہیں گے۔ہاں جو خلاف کرے گا وہ محروم رہے گا۔کیونکہ اس کی ذات غیور ہے۔اُس نے اپنی طرف آنے کی راہ ضرور رکھی ہے۔لیکن اس کے دروازے تنگ بنائے ہیں۔پہنچتا وہی ہے جو تلخیوں کا شربت پی لیوے۔لوگ دنیا کی فکر میں درد برداشت کرتے ہیں۔حتی کہ بعض اسی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے ایک کانٹے کی درد بھی برداشت کرنا پسند نہیں کرتے۔جب تک اس کی طرف سے صدق اور صبر اور وفاداری کے آثار ظاہر نہ ہوں تو اُدھر سے رحمت کے آثار کیسے ظاہر ہوں۔البقرة: ۲۵۸، ۲ العنکبوت : ۷۰