حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 22

22 تیار نہیں ہوتا۔یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو اتنا نہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے۔بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکاؤ تو شور با زیادہ کر لوتا کہ اسے بھی دے سکو۔اب کیا ہوتا ہے اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں۔لیکن اس کی کچھ پروا نہیں۔یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتناہی مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو۔بلکہ جوتمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں۔خواہ وہ سوکوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔ہر شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہئے کہ وہ کہاں تک ان امور کی پروا کرتا ہے۔اور کہاں تک وہ اپنے بھائیوں سے ہمدردی اور سلوک کرتا ہے۔اس کا بڑا بھاری مطالبہ انسان کے ذمہ ہے۔حدیث صحیح میں آیا ہے کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔میں پیاسا تھا اور تو نے مجھے پانی نہ دیا۔میں بیمار تھا۔تم نے میری عیادت نہ کی۔جن لوگوں سے یہ سوال ہو گا وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب تو کب بھوکا تھا جو ہم نے کھانا نہ دیا۔تو کب پیاسا تھا جو پانی نہ دیا۔اور تو کب بیمار تھا جو تیری عیادت نہ کی۔پھر خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ جو ہے وہ ان باتوں کا محتاج تھا مگر تم نے اس کی کوئی ہمدردی نہ کی۔اس کی ہمدردی میری ہی ہمدردی تھی۔ایسا ہی ایک اور جماعت کو کہے گا کہ شاباش ! تم نے میری ہمدردی کی۔میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا وغیرہ۔وہ جماعت عرض کرے گی کہ اے ہمارے خدا ہم نے کب تیرے ساتھ ایسا کیا ؟ تب اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میرے فلاں بندہ کے ساتھ جو تم نے ہمدردی کی وہ میری ہی ہمدردی تھی۔در اصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے۔اور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اس کے دوست کے پاس جاوے اور وہ شخص اس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس