حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 20
20 اور انوار خدا تعالیٰ سے اُتریں گے۔جو اس کو رشنی اور قوت پہنچائیں گے۔اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنادیتا ہے۔پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے۔میں یہ سب باتیں بار بار اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جود نیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقوی وطہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔اسے دوبارہ قائم کرے۔عام طور پر تکبر دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔ان کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے۔اس لئے اُن کے مجاہدے اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کی ہیں۔جیسے ذکرارہ وغیرہ جن کا چشمہ نبوت سے پتہ نہیں چلتا۔میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں۔صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے جس میں روحانیت کا کوئی نام ونشان نہیں۔یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے۔اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں۔پس یہ زمانہ اب بالکل خالی ہے۔نبوی طریق جو پاک ہونے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے۔اور اس کو بھلا دیا ہے۔اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہد نبوت پھر آجاوے اور تقویٰ اور طہارت پھر قائم ہو۔اور اُس کو اس نے اس جماعت کے ذریعہ چاہا ہے۔پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو۔اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت ﷺ نے اصلاح کا طریق بتایا ہے۔الله شریعت کے دو پہلو شریعت کے دو ہی بڑے حصے اور پہلو ہیں۔جن کی حفاظت انسان کو ضروری ہے۔