حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 17
17 تین پہلو ہیں۔اوّل مجاہدہ اور تدبیر، دوم دعا، سوم صحبت صادقین۔یہ فضل الہی انبیاء علیہم السلام پر بدرجہ کمال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اول ان کا تزکیہ اخالاقی کامل طور پر خود کر دیتا ہے۔ان میں بد اخلاقیوں اور رذائل کی آلائش رہ ہی نہیں جاتی۔ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سلطنت پا کر بھی وہ فقیر ہی رہتے ہیں اور کسی قسم کا کبران کے پاس نہیں آتا۔در حقیقت یہ گند جو نفس کے جذبات کا ہے اور بداخلاقی ، کبر، ریا وغیر ہ صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس پر موت نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور یہ موادِر ڈیہ جل نہیں سکتے جب تک معرفت کی آگ اُن کو نہ جلائے۔جس میں یہ معرفت کی آگ پیدا ہو جاتی ہے وہ ان اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہونے لگتا ہے اور بڑا ہو کر بھی اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے۔اور اپنی ہستی کو کچھ حقیقت نہیں پاتا۔وہ اس نور اور روشنی کو جو انوار معرفت سے اُسے ملتی ہے اپنی کسی قابلیت اور خوبی کا نتیجہ نہیں مانتا اور نہ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ وہ اسے خدا تعالیٰ ہی کا فضل اور رحم یقین کرتا ہے جیسے ایک دیوار پر آفتاب کی روشنی اور دھوپ پڑ کر اُسے منور کر دیتی ہے۔لیکن دیوار اپنا کوئی فخر نہیں کر سکتی کہ یہ روشنی میری قابلیت کی وجہ سے ہے۔یہ ایک دوسری بات ہے کہ جس قدر وہ دیوار صاف ہوگی اسی قدر روشنی زیادہ صاف ہوگی۔لیکن کسی حال میں دیوار کی ذاتی قابلیت اس روشنی کے لئے کوئی نہیں بلکہ اس کا فخر آفتاب کو ہے اور ایسا ہی وہ آفتاب کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تو اس روشنی کو اٹھا لے۔اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام کے نفوس صافیہ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض سے معرفت کے انوار ان پر پڑتے ہیں۔اور ان کو روشن کر دیتے ہیں۔اسی لئے وہ ذاتی طور پر کوئی دعوی نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فیض کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اور یہی سچ بھی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اعمال سے داخلِ جنت ہوں گے تو یہی فرمایا کہ ہرگز نہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل