حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 12
12 ہے تو کہہ دو کہ وہ بہت ہی قریب ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اسے جواب دیتا ہوں۔یہ جواب کبھی رویا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے اور علاوہ بریں دُعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے کہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔غرض دُعا بڑی دولت اور طاقت ہے اور قرآن شریف میں جابجا اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنی مشکلات سے نجات پائی۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔دُعاؤں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہوگی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاوے گا۔تیسرا پہلوصحبت صادقین ہے تیسرا پہلو جو قرآن سے ثابت ہے وہ صحبت صادقین ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِین یعنی صادقوں کے ساتھ رہو۔صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ان کا نور صدق اور استقلال دوسروں پر اثر ڈالتا ہے اور اُن کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ تین ذریعے ہیں جو ایمان کو شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔اور اُسے طاقت دیتے ہیں اور جب تک ان ذرائع سے انسان فائدہ نہیں اُٹھا تا اس وقت تک اندیشہ رہتا ہے کہ شیطان اس پر حملہ کر کے اس کے متاع ایمان کو چھین نہ لے جاوے۔اسی لئے بہت بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم کو رکھا جاوے اور ہر طرح التوبة:119