دینیات کی پہلی کتاب

by Other Authors

Page 97 of 134

دینیات کی پہلی کتاب — Page 97

کا مالک ہونا چاہئیے۔با ادب اور با اخلاق بننے کے ذرائع! پہلا ذریعہ یہ ہے کہ انسان ایسی حرکات علیحد گی میں کرنے سے بچے جو دوسروں کو بُری معلوم ہوں۔یا اُسے شرمندہ کرنے والی ہوں اگر کوئی شخص خُفیہ طور پر بُری عادات پیدا کرلے جب لوگوں سے ملے گا تو اُس کی وہ عادات بے اختیار ظاہر ہوکر اُسے شرمندہ کریں گی۔مثلاً جن لڑکوں کو گالی دینے کی عادت ہو وہ مجلس میں بھی بے اختیار گالی دے دیں گے۔اور اپنے آپ کو روک نہیں سکیں گے۔جس بچے کو گھر میں اپنے بھائی بہنوں سے لڑنے کی عادت ہوگی وہ باہر کے لڑکوں سے بھی لڑے گا۔اسی طرح جو گھر میں کھانے کی چیزوں پر لڑتا ہو گا۔وہ باہر بھی ویسا ہی بُرا نمونہ دکھائے گا۔پس اچھے اخلاق پیدا کرنے کے لئے پہلے بُری عادات کو چھوڑ نا چاہئیے۔بلکہ پیدا ہی نہ ہونے دینا چاہئیے۔دوسرا ذریعہ بزرگوں اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا اور اُن کی باتیں سنتا ہے۔اخلاق کو درست کرنے کا یہ بڑا کامیاب ذریعہ ہے۔جولڑ کے اپنے بزرگوں کی صحبت سے جی چراتے ہیں۔اُن کی باتیں سننے سے گھبراتے ہیں۔وہ ہمیشہ بد اخلاق اور بے ادب ہوتے ہیں۔لیکن جو شوق سے بزرگوں کے پاس جاتے۔اُن کی باتیں سنتے ہیں وہ عموما با ادب اور با اخلاق بن جاتے ہیں۔تیسرا ذریعہ با ادب اور با اخلاق بننے کا بُرے لڑکوں کی صحبت سے بچنا۔اور اُن کے بُرے افعال اور بُری باتوں سے نفرت کرنا ہے۔مثلاً اگر کسی لڑکے کو گالی دینے کی عادت