دینیات کی پہلی کتاب — Page 96
ساتواں باب اخلاق حسنه نمبر (۱) اخلاق خُلق کی جمع ہے۔خلق سخ کی فتح کے ساتھ ظاہری پیدائش کا نام ہے۔اور خلق سخ کی پیش سے باطنی پیدائش کا نام ہے۔(الف) انسان کے اند ر اللہ تعالیٰ نے بہت سی طاقتیں رکھی ہیں۔جب ان میں سے کوئی طاقت اپنے موقعہ اور محل کے مطابق ظاہر ہو تو اُسے خُلق کہتے ہیں اور انسان با اخلاق کہلاتا ہے۔آداب۔ادب کی جمع ہے۔ادب اور خُلق میں فرق یہ ہے کہ خُلق تو اُس اچھی عادت کا نام ہے جو انسان میں پائی جائے۔خواہ اُس کا اظہار ہو یا نہ ہو۔لیکن ادب اچھی عادت کے اظہار کا نام ہے۔مثلاً اطاعت (فرمانمبر داری ) ایک اچھا خُلق ہے۔مگر جب کوئی کسی کا کہا مان کر کھڑا ہو جائے یا بیٹھ جائے تو اُسے با ادب کہیں گے۔اعلیٰ اخلاق کا پتہ دراصل انسان کے برتاؤ۔میل۔ملاقات۔لین دین وغیرہ سے لگتا ہے۔اس لئے با اخلاق ہی باادب ہوگا۔بے ادب کبھی با اخلاق نہیں ہوسکتا۔اور بداخلاق کبھی با ادب نہیں ہوسکتا۔(ب) با ادب بننا ہو تو اچھے اخلاق سیکھنے چاہئیں۔اور با اخلاق بننا ہو تو عمد ہ آداب