دینیات کا پہلا رسالہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 7 of 19

دینیات کا پہلا رسالہ — Page 7

نمازوں کے اوقات فجر کی نماز کا وقت : پو پھٹنے سے سورج کے نکلنے تک ہے۔اور اس میں پہلے دوستیں پھر دو فرض پڑھنے چاہیں۔ظہر کی نماز کا وقت : دو پہر ڈھلنے سے لے کر اصلی سایہ کے سوائے اور علاوہ ہر ایک چیز کا سایہ اپنی لمبائی کے برابر ہونے تک۔اس میں چار سنتیں پہلے پھر چار فرض ہیں۔اس کے بعد دو سنتیں پڑھے یا چار دو، دو کر کے پڑھے۔عصر کی نماز کا وقت : ظہر کی نماز کے بعد سے صحیح وقت تو وہاں تک ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہو جائے۔زرد دھوپ کے وقت عصر کا پڑھنا شریعت نے ایسا نا پسند کیا کہ ایسے کاہل کو منافق کے لفظ تک ( کہنے سے ) دریغ نہیں کیا۔اور ضرورت کا وقت سورج کے ڈوبنے تک ہے۔اس میں چار فرض ہیں۔اور اس کے بعد مغرب تک کوئی نماز جائز نہیں ہاں عصر کے چار فرضوں سے پہلے اگر چار سنتیں پڑھ لے۔تو بڑی عمدہ بات ہے۔مغرب کی نماز کا وقت : مغرب کا وقت سورج کے ڈوب جانے کے بعد ہے۔اس میں تین فرض اور دوسنتیں ہیں۔مغرب کا آخری وقت شفق کے غروب تک ہے۔شفق اس سرخی کو بھی کہتے ہیں۔جو سورج ڈوبنے کے بعد مغرب کی طرف نظر آتی ہے۔اور لغات عرب سے یہ بھی پتہ چلتا ہے۔کہ شفق نام اس سفیدی کا بھی ہے۔جو سورج ڈوبنے کے بعد مغرب کی طرف دیر تک نظر آتی ہے۔عشاء کی نماز کا وقت : عشاء کا وقت غروب شفق سے شروع ہوتا ہے۔محدثین نصف رات تک عشاء کا وقت مانتے ہیں۔اور بعض فقہاء صبح صادق تک۔اس میں چار رکعت فرض اور اس کے بعد دو رکعت سنتیں یا دو دو کر کے چار سنتیں پڑھی جائیں۔اور ان کے بعد وتر ہیں۔جو غالباً لاتین پڑھے جاتے ہیں۔چاہے تینوں ملا کر پڑھیں۔چاہے دو رکعت علیحدہ اور ایک رکعت علیحدہ پڑھیں۔وتروں کے بعد دو رکعت نماز بیٹھ کر پڑھی جائے۔اور سلام پھیر کر سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسُ دو لے بمعنی عموماً (ناشر)