دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 22
22 مولوی عبد القادر صاحب نے بھی خدا ترسی کا ثبوت دیتے ہوئے بھری مجلس میں اقرار کیا کہ بلاشبہ تمام مسلمانوں میں احمدی ہی خاتم النبین کو صحیح معنوں میں تسلیم کرتے ہیں۔2-17 ستمبر کے بدنام زمانہ فیصلہ کے چند ماہ بعد جدہ سے ایک عرب بزرگ سیالکوٹ کے ایک احمدی دوست کے ہمراہ دفتر شعبہ تاریخ تشریف لائے۔فرمانے لگے مختصر وقت میں مجھے صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ اسمبلی نے آپ لوگوں کے متعلق کیا فیصلہ کیا ہے؟ میں از خود جواب دینے کی بجائے سعودی عرب کے مسلّمہ مسجد د حضرت محمد بن عبد الوہاب (المتوفی ۱۲۰۶ھ مطابق ۱۷۹۲ء) کی مختصر سیرت الرسول‘ مطبوعہ بیروت کا صفحہ ۱۷۲-۱۷۳ ان کے سامنے رکھا جس میں لکھا تھا کہ امیر المومنین ابو بکر صدیق اور تمام امت مسلمہ جن مرتدوں کے خلاف سر بکف ہوئی اُن کا عقیدہ تھا انقضت النبوة فلا نطيع احدا بعد " یعنی آنحضور نے کے بعد نبوت کا غیر مشروط اور قطعی طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔اس لیے آپ کے بعد ہم کسی اور کی اطاعت ہر گز نہیں کریں گے اور بالکل نہیں کریں گے۔میں نے دیار حرم کے اس معزز مہمان سے پوچھا کہ عہد صدیقی کے ان مرتدوں اور اسمبلی کی موجودہ قرارداد میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں۔وہ پکار اٹھے "والله لا فرق بينهما إلا ان عقيدة المرتدين طبعت في اللسان العربيه ونص البارليمان في الارديه" يعنى خدا کی قسم دونوں میں صرف یہ فرق ہے کہ مرتدوں کا عقیدہ عربی زبان میں ہے اور پاکستان پارلیمنٹ کی قرارداد اردو میں ہے۔اس کے بعد میں نے کتاب کے صفحات ۱۲ ،۱۳، ۱۹۶ ، ۱۹۷ بھی انہیں دکھائے جن میں حضرت علامہ محمد بن عبد الوہاب نے لکھا ہے کہ آج اصل اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ رسول کے مطابق تہتر فرقوں میں سے صرف ایک کو ناجی کہا جائے۔جو شخص اس کی معرفت رکھتا ہے وہی فقیہ ہے اور جو اس پر عمل پیرا ہے وہی مسلمان ہے۔نیز یہ کہ صحابی رسول حضرت جارود بن معلی نے آنحضرت کے وصال پر مرتد ہونے والے قبیلہ عبدالقیس میں یہ باطل شکن بیان دیا کہ محمد رسول اللہ ہے اسی طرح وفات پاگئے جس طرح حضرت موسیٰ اور عیسی علیہما السلام۔یہ سنتے ہی پورا قبیلہ از سر نو حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔