دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 97
97 اور اپنی کلاس کے دوسرے طلبہ کے ساتھ خطاب سننے کے لیے چنیوٹ پہنچ گیا۔مودودی صاحب نے دیلی کی نہایت شستہ زبان میں اپنی جماعت کا تعارف کرایا اور کئی سوالات کے نہایت قابلیت اور عمدگی سے جواب بھی دیئے۔ساتھ ہی سامعین کو دعوت دی کہ وہ مزید استفسارات کے لیے میری قیامگاہ مکان شیخ فیروز دین صاحب) پر تشریف لے آئیں۔مجھے اپنے دوسرے دوستوں کا علم نہیں مجھے پر مودودی صاحب کی اس برجستہ، شائستہ اور متین خطاب کا گہرا اثر ہوا۔چونکہ آج تک میں نے دوسرے فرقوں کے علماء کی تقریر میں سنجیدگی کا ایسا رنگ کبھی نہیں دیکھا تھا۔خصوصاً سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب جن کی ایک تقریر میں نے مرید کے میں احراری سیج پر بیٹھے سنی تھی۔عنوان "ختم نبوت“ تھا مگر زبان بازاری تھی جس سے سخت بیزار ہو کر کئی لوگ پنڈال سے بھاگ گئے۔جناب مودودی صاحب نے اپنی تقریر میں خاص طور پر یہ بتایا کہ برٹش انڈیا میں غیر ملکی حکومت تھی اس لیے نظام اسلامی کا قیام عملا ناممکن تھا۔لیکن اب خدا کے فضل سے افق عالم پر پاکستان کا ستارہ طلوع ہو گیا ہے اب ہمارا فرض ہے کہ یہاں نفاذ اسلام کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں اور اس کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں۔اس لیے پنجاب الیکشن کے لیے ہم نے یہ عہد نامہ شائع کیا ہے کہ ووٹر صرف اس امید وار کو ووٹ دیں جو اسمبلی میں اسلامی دستور نافذ کرنے کا اقرار کرے۔اس ضمن میں جماعتِ اسلامی نے اسلامی پنچائتوں کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے۔جناب مودودی صاحب کی تقریر ختم ہوتے ہی ہم سب طلبہ اُن کی قیام گاہ پہ پہنچ گئے۔ہمیں دیکھتے ہی ایک احراری ملا ( عتیق الرحمن) نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ مرزائیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں؟ جناب مودودی صاحب نے بے ساختہ جواب دیا کہ یہ فیصلہ کرنا اسمبلی کا کام ہے۔ہمارا کام پاکستان میں دستور اسلامی کا نفاذ ہے۔مودودی صاحب چاہتے تو مجمع کو خوش کرنے کے لیے اپنا عقیدہ بتا سکتے تھے کہ میں انہیں کافر و مرتد سمجھتا ہوں جیسا کہ ہندوستان میں وہ اپنے رسالہ ” ترجمان القرآن میں لکھ چکے تھے مگر انہوں نے ایسا شریفانہ وحکیمانہ جواب دیا کہ میرا دل عش عش کر اٹھا۔بخدا ہم اُن سے سوالات کرنے ہر گز نہیں گئے تھے۔صرف جلسہ عام اور پرائیویٹ مجلس میں اُن کے اسلوب بیان اور اندازِ فکر سے متعارف ہونا مقصود تھا۔لیکن اُن کا جواب سن کر مجھے بھی اُن