دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 52
فصل چهارم 52 52 ( حضرت اقدس مسیح موعود ) 47- یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب جماعت اسلامی اور دیوبندی علماء اور ضیا امریکی صدر کی قیادت میں پورے جوش و خروش سے ” جہاد افغانستان کر رہے تھے اور ہر طرف آمر ضیاء کی اسلامائزیشن کا پراپیگینڈ از وروں پر تھا۔میں ربوہ اسٹیشن سے لاہور جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھا تھا کہ سانگلہ بل آنے پر میرے کمرہ میں جماعت اسلامی کے ایک رکن یا ( متفق یا متاثر ) تشریف لائے اور میرے ساتھ ہی بیٹھ گئے اور مجھ سے استفسار کیا کہ کہاں جارہے ہو؟ میں نے جواب عرض کیا ربوہ سے آرہا ہوں یہ الفاظ سنتے ہی اُن کے چہرہ کی سنجیدگی اور مسکراہٹیں یکا یک کافور ہو گئیں اور منہ بسورتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی نسبت یہ ریمارکس دیئے کہ انہوں نے دعوی کر کے کوئی اچھا کام نہیں کیا۔میں نے اس پر صرف یہ کہا کہ حضرت اقدس کا دعوئی بنیادی طور پر یہ ہے کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے۔اس دعوئی پر تنقید کا حق صرف ایسے شخص کو ہے جو خود صاحب وحی والہام ہوا اور حلفاً بیان کرے کہ حق تعالیٰ نے مجھے الہاما بتایا ہے کہ مرزا صاحب (معاذ اللہ ) صادق نہیں۔حضور کے زمانہ میں جو کچے اہل اللہ تھے مثلاً حضرت پیر سراج الحق نعمانی، حضرت مولانا غلام رسول را جیکی ، حضرت پیراشہد الدین سندھ وغیرہ۔وہ تو اپنے کشوف والہامات کی بنا پر آپ کے حلقہ ارادت سے منسلک ہو گئے۔اگر آپ کو بھی شرف مکالمہ و مخاطبہ حاصل ہے تو آپ قسم کھا کر اعلان کریں کہ مجھے الہا ماً بتایا گیا ہے کہ مرزا صاحب کا دعوئی صحیح نہیں بلکہ محض افترا ہے۔اس مطالبہ پر یہ صاحب پہلے تو چند منٹ خاموش رہے پھر یکا یک اٹھ کھڑے ہوئے اور ڈبے ہی کو جلسہ گاہ بنا کر جنرل ضیاء صاحب کے متعلق لچھے دار زبان میں پراپیگنڈا کرنے لگے کہ اُن کی برکت سے تیرہ صدیوں بعد پھر اسلامی نظام زکوة پورے ملک میں قائم ہو چکا ہے، بیت المال بھی موجود ہے اور اسلامی تعزیرات پر بھی عمل جاری ہے۔