دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 24
24 بوقت شب حسب دستور مناظر جماعت مولانا محمد عمر صاحب فاضل مبلغ کیرالہ ( حال ناظر اصلاح ارشاد قادیان)، جناب حافظ مظفر احمد صاحب اور یہ عاجز بغرض مشورہ بیٹھے تو میں نے مولانا محمد عمر صاحب سے عرض کیا کہ کل ختم نبوت پر بحث کا آخری دن ہے۔آپ آخری تقریر میں پورے جلال و تمکنت کے ساتھ سامعین کو بتائیں کہ ہم نے تو قرآنی دلائل سے فیضان کا جاری ہونا ثابت کر دیا ہے۔مگر افسوس جناب مولانا زین العابدین صاحب قرآن مجید کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کی بجائے ہم سے نہیں سید المرسلین خاتم المرسلین کے خلاف جنگ کرتے رہے کیونکہ آنحضور ﷺ کی حدیث سے ثابت ہے کہ امتیں صرف ۶۹ آئیں مگر نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد میں مبعوث ہوئے۔مگر ہر عاشق رسول کا دل یہ دیکھ کر پاش پاش ہو جاتا ہے کہ فاضل مناظر نے دربار خاتم النبیین کا فیصلہ نہایت بے دردی سے چاک چاک کر ڈالا اور سارا وقت اپنا خود ساختہ نظریہ اور ڈھکونسلا پیش کرنے میں ضائع کر دیا۔چنانچہ اگلے روز مکرم مولا نا محمد عمر صاحب فاضل نے جونہی اپنی تقریر میں یہ اثر انگیز اور انقلابی نکته پیش فرمایا ، مولوی زین العابدین صاحب اور اُن کے مددگار علماء ( جو شروع دن سے ہمیں مرعوب کرنے کے لیے سینکڑوں کتابیں میزوں پر سجائے اور بازار لگائے بیٹھے تھے ) یکا یک کھڑے ہو گئے اور احمدی مناظر سے اصل احادیث دکھلانے کا مطالبہ کیا جو بفضلہ تعالیٰ اسی وقت پورا کر دیا گیا۔مگر روایت دیکھنے کے باوجود ان حضرات نے اپنا ہنگامہ جاری رکھا اور دہشت زدہ ہو کر یہ دعویٰ کیا کہ علم اسماء الرجال کے مطابق ان حدیثوں کا فلاں راوی ضعیف ہے۔مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے فوراً بآواز بلند یہ پر شوکت جواب دیا کہ آپ حضرات جس راوی پر جرح و تنقید فرمارہے ہیں وہ ان احادیث کی اسناد میں سرے سے موجود ہی نہیں۔یہ سن کر فریق ثانی کے علمائے کرام پر تو گویا ایک بجلی سی گر پڑی اور وہ آپس میں ہی الجھ پڑے اور اپنے نمائندہ مناظر پر خفگی کا اظہار کیا۔یہاں تک کہہ ڈالا کہ ایسے بے بنیا دسوال کرنے کی بھلا ضرورت ہی کیا تھی۔یہ تاریخی دن ہمارے لیے یوم الفرقان سے کم نہ تھا جسے ویڈیو کیمرہ کی آنکھ نے بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔