دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 23
23 18 - ۲۰۰۲ء میں یورپ کے سفروں کے دوران یہ خاکسار فرانس بھی پہنچا۔اثنائے قیام میں نے پیرس مسجد کے قریب ایک لبنانی کتب خانہ سے عربی لٹریچر خریدا جس میں ایک ہزار سال برس قبل کے شہرہ آفاق صوفی اور عارف باللہ حضرت شیخ محمد الحکیم الترندی کی کتاب ختم الاولیا بھی تھی۔اس کتاب کی مجھے مدت سے تلاش تھی۔امارات متحدہ کے کتب خانوں سے بھی دستیاب نہ ہو سکی تھی۔میں نے صاحب مکتبہ کا از حد شکریہ ادا کر کے اس کا ہدیہ پیش کر دیا اور پھر معابعد کتاب کا صفحہ ۳۴۱ ملاحظہ کرنے کی درخواست کی جس میں لکھا تھا کہ وہ شخص جو خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کرتا ہے وہ اندھا ہے۔اس میں بھلا آنحضرت ﷺ کی کیا منقبت ( خوبی) ہے۔یہ تاویل تو پاگلوں اور جاہلوں کی تاویل ہے۔علم نو از لبنانی بزرگ یہ عبارت پڑھ کر دنگ رہ گئے۔میں نے اُن سے یہ کہ کر اجازت مانگی کہ السیدی بعینہ یہی عقیدہ جماعت احمدیہ کا ہے۔انہوں نے بڑے غور سے میری بات سنی اور نہایت درجہ خندہ پیشانی اور کمال عقیدت اور احترام سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو ( جنہیں جناب اشفاق ربانی صاحب امیر جماعت فرانس نے میرے ساتھ کیا تھا ) رخصت کیا۔19۔اواخر ۱۹۹۴ء میں جنوبی ہند کے شہر کو کمبٹور ( تامل ناڈو ) میں تین اختلافی مباحث پر نہایت پُر امن مباحثہ ہوا۔امام عالی مقام سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الرابع نے حافظ مظفر احمد صاحب اور خاکسار کو احمدی مناظرین کی معاونت کے لیے بذریعہ ہوائی جہاز بھجوایا۔ختم نبوت کے موضوع پر اہل حدیث مناظر مولوی زین العابدین صاحب ( نمائندہ جمعیۃ اہل القرآن والحدیث) نے پورے زور سے یہ نظریہ بار بار پیش کیا کہ قرآن مجید کی رو سے ہر رسول کی امت ہے لکل امة رسول (یونس) لہذا اگر مرزا صاحب نبی ہیں تو اُن کی امت مسلمانوں سے بالکل الگ اور نئی امت ہے۔دوران مباحثہ اللہ جلشانہ نے حضرت امام ہمام خلیفتہ المسیح الرابع کی زبر دست روحانی توجہ کی برکت سے میری توجہ اس طرف منعطف کرائی کہ حدیث نبوی کے انڈیکس سے معلوم کیا جائے کہ نبی کتنے ہوئے اور امتیں کس قدر گزریں۔خدا کی اعجازی نصرت دیکھئے چند منٹوں کی ورق گردانی سے مسند احمد بن حنبل جلد ۵ ہی سے اسی مضمون کی دو حدیثیں مل گئیں۔(صفحہ ۱۵ اور ۴۵۵) جن میں فرمان نبوی درج تھا۔امت مسلمہ سے قبل انہتر امتیں ہوئیں اور نبیوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھیں۔