دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 104 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 104

104 جعفری تحریک کی پوری عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں پانچ نکات معرفت بیان ہوئے ہیں: 1- امامت یا جاگیر یا ورثہ میں نہیں مل سکتی۔2- امامت کے لیے خدا کے آسمانی کالج میں امتحان دینا پڑتا ہے۔-3 کمرہ امتحان میں صرف نبی بیٹھ سکتا ہے۔4- امید وار کو اللہ جل شانہ کے پرچہ کے تمام سوالات میں سو فیصدی نمبر لینے ضروری ہیں۔5- امتحان میں پاس ہوتے ہی کوئی نبی از خود امام نہیں بن سکتا بلکہ بذریعہ الہام اسے مقام امامت سے سرفراز فرماتا ہے۔یہ پانچوں نکات بیان ہو چکے تو میں نے ان کی خدمت میں مندرجہ ذیل معروضات پیش کیں: اول: آپ حضرات کے نزدیک جب امام نبی سے افضل ہوتے ہیں اور آپ کے عقیدہ میں بارہ امام ظہور فرما ہو چکے ہیں تو جماعت احمدیہ کے خلاف ختم نبوت“ کی نام نہاد تحریکوں میں آپ کا زور وشور سے حصہ لینا زیب نہیں دیتا۔دوم: قرآن کی اس آیت نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ صرف وہی شخص امام بن سکتا ہے جو پہلے نبوت پر فائز ہو۔میری تحقیق کے مطابق آئمہ اہل بیت میں سے کسی نے دعوی نبوت نہیں کیا تو وہ قرآنی اصطلاح کے مطابق امام کیسے قرار پاسکتے ہیں؟ ہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو دعا سکھلائی ہے کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان: ۷۵) ہمیں متقیوں کے امام بنادے۔ہمارا ایمان ہے کہ ان مومنوں میں خانوادہ نبوت کے سب بزرگ بلاشبہ متقیوں کے امام تھے۔اصطلاحی معنوں میں ہر گز نہیں۔سوم : ایک فکر انگیز پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن کی رُو سے بذریعہ الہام امامت کی شان عطا ہوتی ہے لیکن کوئی نہیں جو آئمہ اثنا عشر میں سے کسی کے متعلق یہ ثابت کر سکے کہ انہیں الہامی طور پر امام قرار دیا گیا ہو۔بجائے اس کے کہ یہ معزز دوست کوئی جواب عنایت فرماتے انہوں نے جلدی جلدی کھانا ختم کیا اور جانے کی رخصت چاہی۔اور میں نے انہیں ربوہ کے اڈہ تک پہنچ کر رخصت کی سعادت